لبنان میں حشیش کو قانونی قراردیا جائے:جنبلاط
لبنان کے ببانگ دہل حق بیانی کرنے والے دروز لیڈر ولید جنبلاط نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ''مشترکہ بیان'' میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں حشیش (بھنگ) کی کاشت کو قانونی قرار دے دیا جائے۔
انھوں نے لکھا ہے:''اب وقت آگیا ہے کہ حشیش کی کاشت کی اجازت دے دی جائے اور ایسا کرنے والے لوگوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا سلسلہ بند کردیا جائے''۔
لبنان کے قانون کے تحت منشیات کے اسمگلروں کو جیل کی سزا دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود مشرق میں واقع وادی بقاع کے دیہات میں قبائل اس قانون کا کوئی احترام نہیں کرتے ہیں اور وہ سرعام بھنگ کاشت کرتے اور اس کو فروخت کرتے ہیں۔
ولید جنبلاط لبنان کی دروز کمیونٹی کے سینیر رکن اور تجربے کار سیاست دان ہیں۔انھیں لبنان کا بادشاہ گر سمجھا جاتا ہے۔انھیں اپنے سیاسی اتحاد تبدیل کرنے پر ابن الوقت سیاست دان بھی قرار دیا جاتا ہے۔وہ ٹویٹر سمیت سوشل نیٹ ورکس پر شامی صدر بشارالاسد ،لبنانی سیاست دانوں اور عالمی برادری پر طنز کے نشتر چلاتے رہتے ہیں۔
لبنان میں بھنگ کے کاشت کاروں کے بہ قول پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے اب حکام کی توجہ ان پر سے ہٹ گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2012ء کے بعد سے حشیش کی طلب میں پچاس گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ لبنان میں پیدا ہونے والی حشیش کی بڑی مقدار شام بھیجی جارہی ہے اورسرحدوں پر بھی کوئی زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل یہ رپورٹ بھی منظر عام پر آئی تھی کہ لبنان کی طاقتور شیعہ جنگجو تنظیم حزب اللہ کے کنٹرول والے علاقے میں بھنگ کی پیدوار میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے لیکن لبنانی حکومت یا فوج بھنگ کی کاشت کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات کرتی نظر نہیں آتی ہے۔
شام میں خانہ جنگی سے قبل لبنانی فوج نے مبینہ طور پر بھنگ کی کاشت والی اراضی پر چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں لیکن گذشتہ دو سے تین سال کے دوران فوج نے سرحدوں کی سکیورٹی پر اپنی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاشت کار بڑی دیدہ دلیری سے بھنگ کی کاشت کررہے ہیں۔اس کا اندازہ حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بعلبک سے تعلق رکھنے والے ایک کاشت کار کی اس بات سے کیا جاسکتا ہے جس کا کہنا ہے :''پولیس اور فوج اگر چاہیں بھی تو وہ مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے''۔
امریکی یونیورسٹی بیروت میں سیاسیات کے پروفیسر اوہینس جیوکجان کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک کھلا راز ہے۔ بھنگ کے ان کاشت کاروں کا نیٹ ورک اپنے کھیتوں کے تحفظ کے لیے بہت مسلح ہے۔وادی بقاع اور الہرمل میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت اور فوج دخل اندازی نہیں کرسکتی ہے''۔
منشیات کے اسمگلر مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر قبضہ بندرگاہوں اور بد امنی کا شکار شام کے ذریعے لبنان سے اپنی بھںگ کی پیدوار کو بیرون ملک پہنچاتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق لبنان سے منشیات کی بھاری مقدار اردن میں پہنچائی جارہی ہے۔ یادرہے کہ حشیش کی کاشت نے لبنان میں سنہ 1975ء سے 1990ء تک خانہ جنگی کے زمانے میں ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی تھی اور اس کی فروخت سے لبنانیوں نے کروڑوں ڈالرز کمائے تھے۔
-
حزب اللہ کے زیرنگرانی علاقے میں بھنگ کی پیداوار میں اضافہ
لبنان کی شیعہ جنگجو تنظیم حزب اللہ کے کنٹرول والے علاقے میں بھنگ (حشیش) کی پیدوار ...
بين الاقوامى -
"لبنان میں بھنگ کاشت کرنے کی اجازت دی جائے"
رکن پارلیمنٹ اور دروز رہنما ولید جنبلاط کا مطالبہ
مشرق وسطی -
بھنگ کا نشہ شراب سے کم خطرناک ہے: امریکی صدر اوباما
اوباما کو بھنگ پینے پر صرف غریب لڑکوں کے جیل جانے پر تشویش
بين الاقوامى