لبنان،اسرائیل سرحد پر ایرانی فوجیوں کی تصاویر
سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایسی تصاویر جاری کی گئی ہیں جن سے پاسداران انقلاب ایران کے اہلکاروں کی اسرائیل کے ساتھ واقع لبنان کے سرحدی علاقے میں موجودگی کا پتا چلا ہے۔
ایک ایرانی بلاگ نے اسی ماہ کے آغاز میں اسی طرح کی اور تصاویر جاری کی تھیں،ان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اکتوبر کے آخر میں لبنان کے جنوبی علاقے میں بنائی گئی تھیں۔
امریکا میں قائم ایک ویب سائٹ میمری کے مطابق اس بلاگ کا عنوان ''ہم بدعنوانیوں کی ماں کے نزدیک آرہے ہیں۔ان شاء اللہ بہت جلد ہم ان کی لاشوں کے اوپر سے گزریں گے''۔میمری عربی اور فارسی سمیت مختلف زبانوں میں میڈیا رپورٹس کا انگریزی میں ترجمہ کرتی ہے۔
ایران یہ توتسلیم کرتا ہے کہ اس نے عراق اور شام میں سنی باغیوں کے خلاف ان دونوں ممالک کی حکومتوں کی مدد کے لیے اپنے عسکری مشیر بھیجے ہوئے ہیں لیکن وہ ان دونوں ممالک میں اپنے فوجیوں کی موجودگی کی تردید کرتا ہے۔
پاسداران انقلاب ایران نے اتوار کو عراق میں داعش کے خلاف لڑائی میں اپنے ایک سینیر کمانڈر کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔پاسداران انقلاب نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''بریگیڈئیر جنرل حمید تقوی سامراء میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف مشاورتی مشن انجام دیتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں''۔