.

فرانسیسی ،مراکشی ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی اعلیٰ اپیل عدالت نے ایک فرانسیسی،مراکشی ہم جنس پرست جوڑے کو باہمی شادی کی اجازت دے دی ہے اور پراسیکیوٹرز کے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مراکش اور دس دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہم جنس پرست فرانس میں باہمی شادیاں نہیں کرسکتے ہیں۔

فرانس میں 2013ء میں ہم جنس پرستوں کی شادی کی قانونی طور پر منظوری دی گئی تھی جس کے بعد مراکشی شہری محمد اور فرانسیسی ڈومنیک نے سرکاری طور پر اپنی شادی کی تیاریاں شروع کردی تھیں لیکن ان کی شادی سے صرف دو روز قبل فرانس کے جنوبی شہر چیمبرے سے تعلق رکھنے والے پراسیکیوٹرز نے قراردیا تھا کہ ان کی شادی نہیں ہوسکتی ہے۔

انھوں نے ایک سرکاری سرکلر کا حوالہ دیا تھا جس میں قراردیا گیا تھا کہ مراکش ،پولینڈ اور لاؤس سمیت گیارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے شہری فرانس میں اپنے ہم جنسوں کے ساتھ شادیاں نہیں کرسکتے ہیں۔ان ممالک میں ہم جنس پرستوں کی باہمی شادیوں پر پابندی ہے اور انھوں نے فرانس کے ساتھ بھی دوطرفہ سمجھوتوں پر دستخط کررکھے ہیں جن کے تحت ان ممالک کے شہریوں پر لازم قراردیا گیا ہے کہ وہ فرانس میں رہتے ہوئے اپنے آبائی ممالک کے قوانین کا بھی احترام کریں گے۔

یہ دونوں فرانسیسی اور مراکشی ہم جنس پرست جب شادی کی کوشش میں ناکام ہوگئے تو دو الگ الگ عدالتوں نے انھیں شادی کی اجازت دے دی تھی۔واضح رہے کہ ان کے پورے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں اور انھوں نے میڈیا سے کہا ہے کہ ان کے نام کا صرف پہلا، پہلا حصہ ڈومنیک اور محمد ہی لکھا جائے۔

مذکورہ دونوں عدالتوں کے خلاف فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ملک کی اعلیٰ اپیل عدالت سے رجوع کیا تھا۔اس عدالت نے بدھ کو اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ فرانس اور مراکش کے درمیان طے پائے سمجھوتے کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ایک ملک کا قانون پبلک آرڈر سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو پھر وہ قابل عمل نہیں رہتا ہے۔

پبلک آرڈر سے مراد وہ قواعد وضوابط اوراصول و قوانین ہیں جن سے کسی قوم کے نظام ہائے معیشت ومعاشرت ،صحت اور سلامتی کو چلایا جاتا ہے اور ہر شہری کو لازمی حقوق اور آزادیاں دی جاتی ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں قراردیا ہے کہ شادی کی آزادی فرانس میں ایک بنیادی حق ہے۔اگر اس حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو پھر یہ پبلک آرڈر کی خلاف ورزی ہوگی۔

اب اپیل عدالت کے اس فیصلے کے بعد فرانس میں ایک نظیر بن جائے گی اور دوسرے گیارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے شہری بھی فرانس میں اپنے ہم جنسوں کے ساتھ شادیاں کرسکیں گے۔

فرانس کے سوشلسٹ صدر فرانسو اولاندنے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہم جنس پرستوں (گَئے) کی شادیوں کو قانونی تحفظ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن انھیں دائیں بازو کی حزب اختلاف اور طاقتور کیتھولک چرچ کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔واضح رہے کہ فرانس کے جنوبی شہر ماؤنٹ پلائیر میں مئی 2013ء میں ہم جنس پرستوں کے درمیان پہلی شادی ہوئی تھی۔