ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے جنیوا روانہ

یورینیم کی افزودگی اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ایران سے اخراج فریقین کے درمیان اختلاف کا بنیادی نکتہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جوہری مذاکرات کے دوسرے دور اور بعض سفارتی مشاورت کے لیے تہران سے جنیوا چلے گئے۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کی شام ایک ماہر سفارتی وفد کی سربراہی میں جوہری بات چیت کے دوسرے دور اور کچھ سفارتی مشاورت کے لیے تہران سے جنیوا روانہ ہوئے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کل منگل کے روز سلطنت عمان کی کوششوں اور ثالثی سے منعقد ہوں گے۔

اس دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ سوئس وزیر خارجہ، عمانی وزیر خارجہ، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور سوئٹزرلینڈ میں مقیم متعدد بین الاقوامی حکام سے بھی ملاقات اور تبادلہ خیال کریں گے۔ سوئس حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے جنیوا شہر میں ہوگا جس کی میزبانی سلطنت عمان کرے گی جو اس سے قبل اس ماہ مسقط میں پہلے دور کی میزبانی کر چکی ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی سہولت کے لیے کسی بھی وقت کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے۔ فرانس پریس کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمان اگلے ہفتے جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ تاہم انہوں نے کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا البتہ اس بات کی تصدیق کی کہ سوئٹزرلینڈ ان مذاکرات کا خیرمقدم اور حمایت کرتا ہے۔

مذاکرات کا تسلسل

جمعہ کی سہ پہر امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ختم ہوئے جو عمانی دارالحکومت مسقط میں ہوئے تھے۔ ایرانی ٹیلی ویژن کے نمائندے نے ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات فی الحال ختم ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ دونوں وفد اپنے اپنے ممالک واپس لوٹ جائیں گے۔ بعد ازاں امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسقط میں ہونے والے مذاکرات فریقین کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کے معاہدے پر ختم ہوئے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی اور امریکی فریقین نے مسقط میں آج کے مذاکرات کے دوران اپنے اپنے نقطہ نظر اور مطالبات پیش کیے۔ جمعہ کی صبح مسقط میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ وہ مذاکراتی راستہ ہے جو گزشتہ سال ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد منقطع ہو گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں تہران کے خلاف امریکی فوجی نقل و حرکت کے باعث تناؤ بڑھ رہا ہے۔

امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان بات چیت کی میزبانی عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کی تھی۔ مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ امریکہ کی نمائندگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے کی۔ بات چیت میں ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی، نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی امور حمید قنبری اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی شرکت کی۔

امریکی جانب سے وِٹکوف کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔ مسقط مذاکرات اس راستے کی بحالی ہیں جو جون 2025 میں طے پایا تھا۔ اس کے بعد واشنگٹن اور اسرائیل نے ایران کی جوہری، فوجی اور سکیورٹی تنصیبات پر حملے کر کے ان مذاکرات کو ناکام بنا دیا تھا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے فوجی کمانڈر سمیت سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

موجودہ مذاکراتی دور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی نقل و حرکت اور ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکیوں کے درمیان منعقد ہو رہا ہے تاکہ اسے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کو ختم کرنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ تہران کا اصرار ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اسرائیل فوجی مداخلت اور حکومت کی تبدیلی کے لیے بہانے تراش رہے ہیں اور وہ کسی بھی فوجی حملے کا جواب دینے کا عزم رکھتا ہے چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، اور وہ اپنے جوہری پروگرام پر پابندی کے بدلے مغربی اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔

اختلافتی نکات

یورینیم کی افزودگی اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ایران سے اخراج دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف کا ایک بڑا نکتہ ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ایٹم بم کی تیاری سے روکنے کی پابندی کے بدلے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نکالے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم ایران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے علاوہ کسی اور معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں