ترکی:پارلیمان کے اجلاس میں ارکان گتھم گتھا

ارکان ایک دوسرے پر پِل پڑے،گھونسوں اور لاتوں سے تواضع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکی کی پارلیمان میں حکمران آق پارٹی اور حزب اختلاف ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان ایک مرتبہ پھر پولیس کو مزید اختیارات دینے سے متعلق بل پر بحث کے دوران لڑائی ہوگئی ہے اور انھوں نے ایک دوسرے کی لاتوں، گھونسوں اور تھپڑوں سے تواضع کی ہے۔

ترک پارلیمان میں ایک ہفتے کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان یہ تیسری مرتبہ لڑائی ہوئی ہے اور اس کے دوران متعدد ارکان زخمی ہوگئے ہیں۔صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کی جانب سے پارلیمان میں پیش کردہ ہوم لینڈ سکیورٹی سے متعلق بل کی حزب اختلافات کے ارکان شدید مخالفت کررہے ہیں۔

منگل کو اس بل پر اٹھارہ گھنٹے تک بحث جاری رہی ہے۔اجلاس کی طوالت اور تندوتیز بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان صبر کا دامن کھو بیٹھے اور وہ آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ایوان میں حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی کے ارکان یہ نعرے بازی بھی کرتے سنے گئے کہ یہ تو ابھی ابتدا ہے اور اسی انداز میں جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

حزب اختلاف کے بعض ارکان غصے میں اتنے آگ بگولا ہو گئے تھے کہ وہ پوڈیم تک جاپہنچے اور انھوں نے اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر ایسنور بہاچیکا پیلی کا گھیراؤ کر لیا اور بعض نے انھیں پکڑنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔

اس اجلاس کی غیرمعمولی طوالت اور ایوان میں کشیدہ ماحول کی وجہ سے بعض ارکان کی طبیعت ناساز ہوگئی تھی اور انھیں ابتدائی طبی امداد دینے اور خاص طور پر ان کا بلڈ پریشر چیک کرنے کے لیے ڈاکٹروں کو ہنگامی طور پر پارلیمان میں بلانا پڑا ہے۔

حکمراں جماعت کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ بل میں پولیس کو مزید اختیارات سونپنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ناقدین اس بل پر کڑی نکتہ چینی کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کی منظوری سے ترکی دوبارہ پولیس اسٹیٹ بن کر رہ جائے گا۔

پارلیمان میں آق پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے اور اس نے منگل کو صبح کے اجلاس میں اس مجوزہ بل کی چھے دفعات کی منظوری دی ہے۔ان میں پولیس کو مشتبہ افراد کو اڑتالیس گھنٹے تک پراسیکیوٹر کی اجازت کے بغیر حراست میں رکھنے کی دفعہ بھی شامل ہے۔

حکمراں جماعت نے گذشتہ سال اکتوبر میں کردوں کے پُرتشدد مظاہروں کے بعد ہوم لینڈ سکیورٹی کا بل پارلیمان میں متعارف کرایا تھا۔وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے سوموار کو ایک بیان میں اس بل پر تنقید کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بل یورپی قوانین کے عین مطابق ہے اور ہم اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں گذشتہ ایک ہفتے سے بل کو مؤخر کرانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کررہی ہیں اور ان کے ارکان غیر متعلق موضوعات سے متعلق تحریکیں پیش کررہے ہیں تاکہ قانون سازی میں زیادہ سے زیادہ تاخیر ہوسکے۔

اس بل پر پارلیمان میں گذشتہ ہفتے بحث شروع ہوئی تھی اور آق پارٹی کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری تک پارلیمان مسلسل کام کرے گی اور اگر ضروری ہوا تو ایوان کا اختتام ہفتہ پر اور راتوں کو بھی اجلاس منعقد ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں