"ایران کو اسرائیلی تباہی کا الہیانہ مینڈیٹ حاصل ہے"
پاسداران انقلاب میں مرشد اعلی علی خامنہ ای کے نمائندہ خصوصی مجبتی ذوالنور نے کہا ہے کہ " اللہ نے ایران کی اسلامی جمہوری حکومت کو اسرائیل تباہ کرنے کی خصوصی اجازت دے رکھی ہے۔
ایرانی سیاستدانوں اور فوجی عہدیداروں کی جانب سے اسرائیل کو تباہ کرنے کی یہ پہلی کال نہیں کیونکہ 1979ء سے خمینی انقلاب کے بعد سے ایرانی حکومت نے 'اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے' کا نعرہ بلند کر رکھا ہے۔
انقلاب کے چھتیس برس گذرنے کے بعد بھی متعدد حلقوں کی رائے میں ایسے بودے نعروں نے صہیونی ریاست کے حق میں مغربی رائے عامہ ہموار کرنے کے ضمن میں بہت زیادہ کام کیا ہے۔
بعض تبصرہ نگار اس سے بھی دور کی کوڑی لائے ہیں، ان کی رائے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ایسی نعرہ بازی محض دکھاوا ہے کیونکہ 1980 سے اسرائیل کے ایرانی حکومت کے ساتھ خفیہ سیاسی، فوجی اور معاشی روابط ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ایران نے عراق کے ساتھ لڑائی کے دوران اسرائیل سے فوجی ساز و سامان خریدا، یہ اقدام میڈیا میں ایران گیٹ کے نام سے مشہور ہے۔
پاسداران انقلاب کی ہم خیال نیوز ایجنسی 'فارس' کے مطابق مجبتی ذوالنور کا مزید کہنا تھا کہ "قرآن کریم اسلامی جہموریہ ایران کو اس بات کا مینڈیٹ عطا کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔" خامنہ ای کے مشیر خصوصی نے اشارتا اس رائے کا بھی اظہار کیا کہ "تہران کی اپنے نیوکلیئر پروگرام میں دی گئی رعایتوں کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے سے عزم سے دست بردار ہونے جا رہا ہے۔
تین دہایئوں سے ایرانی حکومت 'القدس کا راستہ کربلاء سے ہو کر گذرتا ہے' جیسے نعرے بلند کرتی رہی ہے تاہم اب تہران نے حال ہی میں اس نعرے میں کچھ ایسے ترمیم کی ہے کہ جس سے اس کا مقصد تو برقرار رہا ہے تاہم اس میں مقامات تبدیل کرتے ہوئے نیا نعرہ تشکیل دیا ہے کہ "القدس کا راستہ مکہ اور مدینہ' سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ بات پاسداران انقلاب کے تھنک ٹینک عمار اسٹرٹیجک سے وابستہ مذہبی پیشوا اور رہنما علی رضا بناھیان نے کہی ہے۔
مبصرین کی رائے میں یمن میں سعودی قیادت میں جاری 'فیصلہ کن طوفان' سے پہنچنے والے صدمے کا غم غلط کرنے کے لئے تہران، ریاض کو ایسے نعروں کے ذریعے اشتعال دلانا چاہتا ہے۔ تہران کے ایسے اقدامات عرب ملکوں کو تباہ کرنے کی اسرائیلی پالیسی سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے والے نعروں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
-
'القاعدہ نے ایران میں کسی شیعہ کو گزند نہیں پہنچایا"
تہران-القاعدہ کی بے جوڑ شادی کا پس منظر 'مرایا' میں بے نقاب
بين الاقوامى -
حرمین شریفین کا محافظ کون، کس نے وہاں خون بہایا؟
العربیہ' نے چشم کشا دستاویزی پروگرام 'مرایا' میں سب کی حقیقت کھول کر رکھ دی'
ایڈیٹر کی پسند -
مرگ بر امریکا کے زور دار نعرے ، تہران گونج اٹھا
امریکا کیخلاف ان نعروں کا آغاز 1979 کے انقلاب سے ہوا تھا
مشرق وسطی -
''مرگ بر امریکا'' ایران میں پھر نعرے لگنا شروع
پاسداران انقلاب نے سابقہ امریکی سفارتخانے پر پرانی یادیں تازہ کیں
مشرق وسطی -
تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی سالگرہ پر مظاہرہ
امریکی پرچم نذر آتش،''مَرگ بَر امریکا'' کے نعرے
بين الاقوامى -
اتحاد امت کے ایرانی نعرے، مگر نماز اپنی اپنی
ایران میں اتحاد عالم اسلامی کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا بھر ...
ایڈیٹر کی پسند