.

گولیوں کی بوچھاڑ میں داعشی نونہالوں کی جنگی تربیت

ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی شام کا شہر الرقہ ان دنوں داعش کے ننھنے جنگجوؤں کے فنون حرب وضرب کی تربیت گاہ بنا ہوا ہے جہاں مختلف ملکوں کے نوعمر بچوں کو سخت جنگی تربیت کے مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ 'دشمن' کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔

سماجی رابطے کی ویڈیو ویب سائٹ 'یو ٹیوب' پر مقبول ہونے والی ایک ویڈیو کے اندر الرقہ میں داعشی نونہالوں کی جنگی تربیت کا احوال دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں چھے برس کا کم عمر لڑکا کنہیوں اور گٹھنوں کے بل ایک ایسی تنگ جگا میں رینگ کر آگے بڑھا رہا ہے جس کے اوپر خاردار تار لگی ہوئی ہے۔ نامعلوم لڑکے کا مربی شامی لہجے میں اسے 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھنے کا جوش دلاتا ہے جبکہ نو عمر جنگجو کی کرالنگ کی رفتار کم ہونے پر باڑ میں اس کے سامنے اور پیروں کے پیچھے گولیوں کی بوچھاڑ کی جاتی ہے، جس کے بعد زیر تربیت ننھا جنگجو مزید تیزی سے کرالنگ شروع کر دیتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں مہینے کی آٹھ تاریخ کو دنیا کے سامنے ایک ایسے ہی نو عمر داعشی جنگجو کا بیان سامنے آیا جس میں وہ اسلحہ ہاتھ میں اٹھائے امریکا کے صدر براک اوباما سے جزیہ مانگ رہا تھا اور انکار کی صورت میں خلافت کی تلوار سے سر قلم کرنے کی دھمکی دیتا دیکھا گیا۔

دھمکی پر مبنی ویڈیو کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انگریزی ترجمے کے ساتھ اپ لوڈ کیا گیا تاکہ براہ راست امریکی صدر کی توجہ حاصل کر سکے۔