'10 داعشی عصمت ریزی کریں تو میں مسلمان ہو جائوں گی'

داعش کے ہاں یرغمال رہنے والی یزیدی دوشیزہ کی المناک داستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

#شام اور #عراق میں نہتے لوگوں پر مظالم ڈھانے میں مشہور دولت اسلامیہ "#داعش" کے مظالم کی عجیب وغریب اور ناقابل یقین داستانیں روزانہ ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی ہیں۔ داعشی مظالم کی تازہ 'اسٹوری' امریکی ٹی وی "سی این این" پر نشر ہوئی ہے جس میں ایک جواں سال یزیدی دوشیزہ کی داستان بیان کی گئی ہے۔

کئی ماہ تک داعش کے قبضے میں رہنے والی 'نور' نامی 21 سالہ #یزیدی قبیلے کی دوشیزہ نے فرار کے بعد امریکی ٹی وی کو اپنے اوپر ڈھائے مظالم کے کچھ واقعات بتائے۔ سی این این کو دیے گئے اس کے انٹرویو نے سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی ہل چل پیدا کردی اور بڑی تعداد میں نور کی داستان کو شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ جس داعشی جنگجو کو فروخت کیا گیا تھا اس نے کہا کہ "اگر کسی یزیدی خاتون سے 10 داعشی ہم بستری کریں تو وہ مسلمان ہوجاتی ہے." گویا داعشی جنگجو کا نور کو یہ کہنا تھا کہ اگر 10 داعشی جنگجو اس کی عصمت تارتار کریں توہ بھی مسلمان کہلائے گی۔ سادہ الفاظ میں نور کے بیان کے مطابق داعش کا فلسفہ اسلام فقط یہ ہے کہ اس تنظیم ے دس غنڈے جس غیر مسلم خاتون کی عصمت سے کھیلیں تو اس کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے یہ گھنائونا کھیل کافی ہے۔

سی این این پر "داعشی" دوشیزہ "نور" کا بیان زیادہ طویل نہیں مگر اس کی وجہ سے ٹی وی کی طویل رپورٹ کو کافی پذیرائی ملی ہے۔

یزیدی دوشیزہ کہتی ہے کہ شمالی عراق کے جبل #سنجار سے یرغمال بنائے جانے کے بعد اسے ایک داعشی جنگجو کی لونڈی بنایا کر اسے فروخت کیا گیا۔ خریدنے والے جنگجو نے اسے دو دن تک اپنے گھر میں رکھا۔ دو روز گذرنے کے بعد اس کی عزت وناموس تاراج کرنا شروع کی۔ داعشی جنگجو کئی روز تک اس کی عصمت سے کھیلتا رہا۔ آخر کار اسے مزید نو وحشی داعشیوں کے حوالے کردیا گیا۔ بعد میں اس گروپ میں ایک اور اضافہ کیا گیا اور یوں 11 داعشی وحشیوں نے اس کی عصمت ریزی کی۔ کئی داعشیوں کی ہوس اور درندگی کا نشانہ بننے کے بعد جب نور کو چھوڑا گیا تو اس کی حالت مرغ بسمل کی سی تھی اور وہ ذبح کردہ مرغی کی طرح تڑپ رہی تھی۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں لندن کے امام مسجد اجمل مسرور سے بھی مدد لی اور دین اسلام کی تعلیمات کو بھی اپنی رپورٹ میں شامل کیا۔ علامہ اجمل مسرور نے بتایا کہ اسلام کسی خاتون کو یرغمال بنانے اور اس کی عصمت ریزی کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔ کسی خاتون کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کرنے پر تو بات بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اسلام ایسے واقعات کو سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ ایسا اقدام اسلام کی روشن تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سی این این کی رپورٹ میں داعش کی حراست میں رہنے والی ایک دوسری یزیدی خاتون 'بُشریٰ' کے حالات واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ بشریٰ کا کہنا ہے کہ انہیں کئی دوسرے مردو خواتین اور بچوں کے ہمراہ پچھلے سال جولائی میں جبل سنجار سے یرغمال بنایا گیا۔ اس نے بتایا کہ ہر یرغمالی یزیدی خاتون کی طرح اسے بھی کئی مردوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا جنہوں نے باری باری اس کی عصمت ریزی کی۔ ایک داعشی سے وہ حاملہ ہوگئی جس کے بعد اسے ایک فیملی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے اسقاط حمل کردیا۔

اکیس سالہ بشریٰ نے بتایا کہ داعشی جنگجوئوں نے مجموعی طور پر 5000 یزیدی شہریوں کو یرغمال بنایا۔ ان میں 500 خواتین تھیں۔ بشریٰ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد یرغمال بنا لی گئی تھی۔ یرغمال بنائے جانے کے وقت بھی وہ امید سے تھی مگر داعشی ڈاکٹر نے اس کا اپنے شوہر سے ہونے والا بچہ جو تیسرے ماہ میں تھا گرا دیا۔ جب اس نے داعشی ڈاکٹر سے اس ساری واردات کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے سختی سے اس حوالے سے بات کرنے سے منع کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں