.

تھائی خاکروبہ کی بیٹی ملکہ حسن بن گئی!

ہونہار بیٹی کی سر پر تاج پہن کر ماں کی قدم بوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھائی لینڈ کی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ دوشیزہ ملکہ حسن کا تاج اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہوئی مگر اس خاندان کے لیے اس سے بھی اہم خبر یہ ہے کہ ملکہ حسن کی ماں ایک خاکروبہ ہے جو کوڑا کرکٹ جمع کر کے اپنے بچوں کی پرورش کرتی، ان کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرتی رہی ہے۔ ملکہ حسن نے بھی اپنی ماں کی خدمات کے اعتراف میں حسن کا تاج سر پر سجا کر ماں کی قدم بوسی کا مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق تھائی لینڈ کی سترہ سالہ کانیتھا فاسنگھ ایک ماہ قبل بیرون ملک ملکہ حسن کے مقابلوں میں شریک ہوئی تھی جہاں اسے ملکہ حسن کا خطاب ملا۔ برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے فاسنگھ کے وطن واپس لوٹنے اور اس سے قبل کی کچھ تصاویر شائع کی ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا جا رہا ہے۔ گھر لوٹتے ہی فاسنگھ نے سر پر ملکہ حسن کا تاج پہنے اپنی ماں کے قدم چوم لیے۔

کانیتھا فاسنگھ کی ماں سے محبت کے جذباتی اٖظہار کو بہت پسند کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ملکہ حسن کی ماں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ اس نے انتہائی غربت میں اپنے بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم کا اہتمام کر کے ایک بیٹی کو ملکہ حسن کے مقام تک پہنچا دیا۔

ڈیلی میل کی شائع کردہ ایک تصویر میں فا سنگھ کو اپنی والدہ کے ہمراہ کوڑا کرکٹ جمع کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

"ڈراما فیفر" ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے نوعمر ملکہ حسن کا کہنا تھا کہ اسے اپنی ماں کے پیشے سے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آج میں جس مقام پر ہوں یہ میری ماں کی محنت اور ان کے رزق حلال کی کمائی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے مجھے قطعا کبھی اس بات پر شرمندگی نہیں ہوتی کہ میری ماں ایک خاکروبہ ہے۔

کانیتھا فاسنگھ جو ان دنوں اخبارات اور ٹیلی ویژن کمرشل اشتہاروں میں کام کررہی ہیں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ بھی اس قدر مقبول ہوں گی۔ مگروہ اپنی مقبولیت کا کریڈٹ اپنی والدہ کو دیتی ہیں۔