ترکی پر ایٹم بم گرا دیا جائے: روسی سیاستدان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترک ذرائع ابلاغ نے روس کی مشہور لبرل پارٹی کے سربراہ ولاديمير جيرنووسكی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس انقرہ مخالف سیاسی رہنما نے روسی طیارہ گرانے کا بدلہ لینے کے لئے ترکی کی آبنائے باسفورس پر ایٹمی بم گرانے کی تجویز پیش کی ہے۔

ترک ذرائع کے مطابق انتہا پسند سیاسی نظریات کے حامل روسی رہنما جيرنووسكی کے 'حوفریت ماسکوا' ریڈیو کو دیئے گئے انٹرویو سے ماخوذ اقتباس میں کہا کہ "استنبول کو دنیا کے نفشے سے بآسانی مٹایا جا سکتا ہے۔"

اپنے انتہائی نوعیت کی تجویز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مسٹر جيرنووسكی نے کہا کہ "ایک نیوکلیئر بم استنبول کی آبنائے باسفورس میں گرانے سے پانی کی لہریں 10 سے 15 میٹر بلند ہوں گی اور اس طرح پورا شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور استنبول کا خاتمہ ہو جائے گا۔"

واضح رہے کہ جيرنووسكی ترک فضائیہ کی جانب سے روسی جہاز گرائے جانے کے واقع سے بہت پہلے ہی اپنی انقرہ مخالفت کے لئے مشہور ہیں۔ وہ ان معدودے چند روسی سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں کہ جو ترکی کے وجود کو دنیا کے نقشے پر ایک 'غلطی' سے تعبیر کرتے ہوئے اسے 'ٹھیک' کرنے کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ وہ ترکی کے خاتمے کا پرچار دو دہائیوں سے کر رہے ہیں۔

ولاديمير جيرنووسكی نے متحدہ روس کے خاتمے کے بعد کئی مرتبہ صدارتی انتخاب لڑا، تاہم وہ ہر مرتبہ اپنے ساتھیوں کے بقول 'انتہا پسند' اور 'غیر ذمہ دارانہ' بیانات کی وجہ سے ناکام رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں