.

مضایا : جہاں موٹرسائیکل کے بدل میں 5 کلو چاول ملتے ہیں

شامی قصبے میں کوئی زندگی نہیں،اس کا کیس بالکل منفرد ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے محاصرے کا شکار قصبے مضایا کے مکینوں کو درپیش مشکلات اور مصائب خانہ جنگی کا شکار ملک کی سب سے بھدی تصویر پیش کررہے ہیں اور وہاں کوِئی زندگی نہیں ہے۔

دمشق میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ ساجد ملک نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم نے مضایا میں جو کچھ دیکھا،اس کا کسی اور علاقے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے''۔

ان سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ مضایا کا شام کے دوسرے علاقوں سے کس طرح موازنہ کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ حکومت نواز فورسز کے گذشتہ کئی ماہ سے محاصرے کی وجہ سے مضایا کے مکین بھوک کا شکار ہو کر موت کے مُنھ میں جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ ،شامی انجمن ہلال احمر اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے سوموار کے روز اس محاصرہ زدہ قصبے میں خوراک ،کمبل اور دوسرے امدادی سامان سے لدے چوالیس ٹرک گذشتہ روز مضایا پہنچائے تھے اور انھیں وہاں کے مکینوں میں تقسیم کیا تھا۔سمجھوتے کے تحت باغیوں کے محاصرے کا شکار شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع دو دیہات الفوعا اور کفرایا میں بھی امدادی سامان سے لدے اکیس ٹرک پہنچائے گئے تھے۔

ساجد ملک بھی اس امدادی قافلے کے ہمراہ مضایا میں گئے تھے۔انھوں نے ایک روز بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''مضایا میں کوئی زندگی نہیں تھی''۔ان کے بہ قول لوگ قحط کی وجہ سے اس حد تک نقاہت کا شکار ہوچکے تھے کہ وہ خود کو درپیش مصائب بھی بیان کرنے کے قابل نہیں رہے تھے''۔

انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے بار بار خوراک کی نایابی کا ذکر کیا اور بتایا کہ پانچ کلو چاول 300 ڈالرز میں مل رہے ہیں۔ایک خاندان نے بتایا کہ اس نے پانچ کلو چاول لینے کے لیے اپنی موٹر بائیک بیچ دی تھی۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا کے ظلم وجبر کا شکار اس قصبے کے مکین نان جویں کو ترس رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں وہ گھاس کو ابال کر اور اس میں مسالے ڈال کر بنائے گئے سوپ پر گزارہ کرتے رہے ہیں۔جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ان کے پاس صرف یہی خوراک رہ گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے اس عہدے دار نے بتایا ہے کہ قصبے کی بجلی منقطع ہے اور مکین کارڈ بورڈ جلا کر آگ سینکتے اور سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ساجد ملک کا کہنا تھا کہ ''ہمارے پاس کاروں میں جو کچھ تھا،وہ ہم نے انھیں دے دیا تھا''۔

شامی حکومت نے اقوام متحدہ کو سمجھوتے کے تحت دو اور امدادی قافلے مضایا میں بھیجنے کی اجازت دی ہے لیکن اس کی تفصیل اور وقت کے حوالے سے ابھی فریقین کے درمیان کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے۔

ساجد ملک نے بتایا کہ کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اقوام متحدہ کے اداروں کو مضایا میں دوبارہ داخلے کی اجازت ملنے کی صورت میں وہاں بھوک سے مرنے والوں کے اعداد وشمار اکٹھے کرنے کی کوشش کرے گا۔انھوں نے آیندہ مہینوں میں قصبے میں خوراک اور دوسرا امدادی سامان مسلسل بھیجنے اور محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے قصبے میں صحت عامہ کی خدمات کے مکمل انہدام کے پیش نظر موبائل ہیلتھ کلینکس قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔دمشق میں ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ایلزبتھ ہوف نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم بیالیس ہزار نفوس پر مشتمل قصبے میں گھر گھر سروے کرنا چاہتی ہے۔وہ بھی امدادی قافلے کے ساتھ مضایا گئی تھیں اور انھیں ایک شامی ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ تین چار سو لوگوں کی حالت بگڑ چکی ہے اور انھیں کسی اسپتال میں منتقل کرنے اور وہاں خصوصی طبی نگہداشت کی فوری ضرورت ہے۔

ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی بند کمرے کے اجلاس میں مضایا کی اس الم ناک صورت حال پر غور کیا ہے۔شامی فوج کے محاصرے سے تنگ آئے ہوئے لوگ عملاً گھاس کھارہے ہیں اور بلیوں کو ذبح کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ اسٹیفن او برائن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ چار سو شامیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہوچکی ہے اور انھیں فضائی ایمبولینس کے ذریعے دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔اگر انھیں آج رات وہاں سے نہیں نکالا جاتا تو کل تک صورت حال بہت ڈرامائی ہوجائے گی۔