ایران میں ویلنٹائن ڈے منانا جُرم قرار
ایران میں مغربی تیوہار ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ آج اس موقع پر جن دکانوں پر بھی ویلنٹائن ڈے سے متعلق اشیاء فروخت کی جائیں گی تو وہ جرم کی مرتکب سمجھی جائیں گی۔
ایرانی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق پولیس نے گذشتہ جمعہ کو ایک انتباہی حکم نامہ جاری کیا تھا اور اس میں دکانداروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ''غیر اخلاقی مغربی کلچر کو ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کے ذریعے'' فروغ دینے سے باز رہیں۔پولیس نے تہران کی کافی اور آئیس کریم شاپس کی ٹریڈ یونین کو خبردار کیا تھا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ایسا کوئی اجتماع نہ ہونے دیں جس میں وہ ویلنٹائن ڈے کے تحائف کا تبادلہ کریں۔
ایران میں ان پابندیوں کے باوجود منچلے نوجوان پریمیوں کا دن (ویلنٹائن ڈے) منارہے ہیں لیکن ایران کی طرح پاکستان سمیت بیشتر مسلم ممالک میں ویلنٹائن ڈے کے نام پر ہلہ گلا کرنے اور اخلاق باختگی کا مظاہرے کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے صدر ممنون حسین نے گذشتہ روز ہی ایک تقریر میں نوجوانوں سے کہا تھا کہ وہ ویلنٹائن ڈے منانے سے گریز کریں کیونکہ اس دن کا ہماری تہذیب وثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ دن قرونِ وسطیٰ میں ایک عیسائی نوجوان کے محبت کی پاداش میں قتل کی یاد میں منایا جاتا ہے۔مسلم ممالک میں اس دن کو منانے کے حوالے سے دو آراء پائی جاتی ہیں۔محدود مغرب زدہ طبقہ اس کو منانے کے حق میں ہے اور وہی اس طرح کی خرافات کے موقع پر پیش پیش نظر آتا ہے جبکہ اسلامی اقدار کے پاس دار ایسے ایام منانے کے سخت مخالف ہیں جن کی اسلامی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ہے اور جو مغربی اساس رکھتے ہیں۔
دوسرے ممالک کے علاوہ اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب میں بھی اب آہستہ آہستہ ضبط کے بندھن ٹوٹ رہے ہیں۔وہاں بھی ویلنٹائن ڈے ایسی خرافات اپنی جگہ بنا رہی ہیں اورنوجوان چوری چھپے یہ دن منانا شروع ہوگئے ہیں جبکہ علمائے دین اس کی مخالفت کررہے ہیں اور معاشرے کو مغرب زدہ ہونے اور مغربی اثرات سے بچانے کے لیے اپنی سعی کررہے ہیں۔