.

سونے کے بارے میں 8 دلچسپ اور عجیب حقائق !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم میں سے تقریبا سب ہی لوگوں کا کسی نہ کسی شکل میں "سونے" سے واسطہ رہتا ہے۔ جو لوگ اس سنہری دھات کو نہیں خریدتے یا اس کو اپنی ملکیت میں رکھنے کے بارے میں نہیں سوچتے وہ اس قیمتی مواد کی بڑھتی اور گرتی قیمتوں سے متعلق خبر پڑھنے پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" پر سونے کے بارے میں 8 دلچسپ اور عجیب حقائق پیش کیے جا رہے ہیں جن کو پڑھ کر یقینا آپ حیران رہ جائیں گے۔

1- دنیا میں سونے کا سب سے بڑا ٹکڑا (بلاک) 1869ء میں آسٹریلیا میں ملا جس کا وزن 72 کلوگرام تھا۔

2- دنیا بھر میں اس زرد دھات کو پیدا کرنے والے سب سے بڑے تین ممالک (عالمی پیداوار کا ایک تہائی) چین ، امریکا اور آسٹریلیا ہیں۔

3- دنیا بھر میں سب سے زیادہ سونا بھارت میں استعمال ہوتا ہے۔

4- ایک فرضی حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیا بھر میں موجود سونے سے 0.5 مائیکرون (مائیکرون = میٹر کا دس لاکھ واں حصہ) موٹائی کا تار تیار کیا جائے تو اس کو اس کرہ ارض کے گرد 1 کروڑ 12 لاکھ مرتبہ لپیٹا جاسکتا ہے۔

5- امریکا کے پاس تقریبا 7385 ٹن سونا محفوظ ہے۔

6- دنیا بھر میں نکالے جانے والے سونے کی تقریبا نصف مقدار زیورات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔

7- خالص ترین 24 قیراط کا سونا نازک اور ٹوٹنے میں آسان ہوتا ہے۔ اس لیے زیورات میں نسبتا کم خالص سونا استعمال کیا جاتا ہے۔

8- طب کے شعبے میں سونے کو ہزاروں سال سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں سب سے معروف استعمال دانتوں کے سلسلے میں ہے جب کہ اس کو کینسر کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جراثیم کے خلاف مزاحمت کے لیے سونا بہترین دھات ہے۔