تاجکستان: نمازیوں کی مانیٹرنگ کے لیے مساجد میں کیمرے نصب
’مسلمان ریاست میں اسلام کے نام لیواؤں پرعرصہ حیات تنگ‘
وسطی ایشیا کے مسلمان ملک تاجکستان کی سیکولرحکومت کے اسلام مخالف اقدامات اور مذہب دشمنی پر مبنی پالیسیاں جاری ہیں۔ عربی نام رکھنے،حجاب اوڑھنے اور حج پرجانے پر پابندی کے بعد دوشنبہ حکومت نے ملک کی تمام مساجد میں نمازیوں کی مانیٹرنگ کے لیے خفیہ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی طورپر درالحکومت دوشنبے کی 70 جامع مساجد میں خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تاجکستان حکومت کی جانب سے مساجد میں کیمرے نصب کرنے کے فیصلے کا جواز یہ تراشا گیا ہے کہ اس سے نمازیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی، نیز نمازیوں میں سخت گیرسلفی مسلک کے لوگوں کی پہچان کی جاسکےگی۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ مساجد میں کیمرے مساجد ہی کے فنڈز سے لگائے جائیں گے۔
خیال رہے کہ تاجکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے وہاں کی لادین حکومت اسلام مخالف پالیسیوں کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔ اس سے قبل ملک میں نومولود بچوں کے اسلامی اور عربی نام رکھنے، خواتین کے حجاب کرنے، مردوں کے داڑھی رکھنے اور حج وعمرہ پر جانے پرپابندیاں عاید کی جا چکی ہیں۔
تاجستان میں اسلام کے نام پرسرگرم تنظیمیں بھی حکومت کی انتقامی پالیسیوں کا شکار ہیں۔ ملک کی ایک بڑی مذہبی جماعت ’تاجکستان اسلامی بیداری‘ پر ملک میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے اور جرائم پیشہ گروپ تشکیل دینے کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ تاجکستان میں اسلام پسندوں کےخلاف حکومت کا ظالمانہ کریک ڈاؤن نیا نہیں۔ دہشت گردی کے خطرات کی آڑ میں ایک عرصے سے ملک میں اسلام کے نام لیواؤں پرعرصہ حیات تنگ کیا گیا ہے۔
-
تاجکستان میں مساجد ہوٹلوں اور سلائی مراکزمیں تبدیل!
مسلمان ملک میں شعائراسلام کے خلاف خطرناک جنگ
بين الاقوامى -
وسطی ایشیائی مسلمان ملک کی شعائر اسلام کے خلاف جنگ!
تاجکستان میں داڑھی، حج ،حجاب اور عربی نام رکھنے پر قدغنیں
ایڈیٹر کی پسند -
"پانچ ہزار ڈالر کے عوض روسی جنگجو بشار الاسد کی جنگ لڑ رہے ہیں"
اجرتی قاتلوں میں قوقاز اور تاجکستان میں لڑنے والے فوجی شامل ہیں
مشرق وسطی