.

گوانتانامو کے 6 قیدیوں کا استقبال.. دنیا کا غریب ترین صدر نادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوراگوائے کے سابق صدر اور سینیٹ کے موجودہ رکن خوسے موخیکا، جن کو ہم نے "دنیا کے غریب ترین صدر" کے خطاب سے جانا تھا۔ انہوں نے 15 ماہ قبل گوانتانامو سے رہائی پانے والے 6 عرب قیدیوں کو اپنے ملک (یوراگوائے) آنے کی اجازت دینے پر سخت ندامت اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ "العربيہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ایک مقامی اخبارLa Republica کے ساتھ خصوصی گفتگو میں خوسے نے اس ندامت کی وجہ "سابق قیدیوں کے برے سلوک" کو قرار دیا۔

خوسے موخیکا کے بیان سے مارچ 2015 میں یوراگوائے کے اس فیصلے کی وجہ کا بھی انکشاف ہوگیا جس کے تحت اس نے بدنام زمانہ جیل کے مزید قیدیوں کو خوش آمدید کہنے سے انکار کردیا تھا۔ اس وقت کے ملک کے وزیر خارجہ روڈولفو نین کا کہنا تھا کہ "گوانتانامو سے مزید قیدی ہر گز نہیں آئیں گے، یہ حتمی فیصلہ ہے"۔ تاہم انہوں نے اس فیصلے کے پیچھے اصل وجہ نہیں بتائی جو امریکی صدر باراک اوباما کی درخواست پر 6 عرب قیدیوں کا استقبال کرنے کے صرف 3 ماہ بعد ہی سامنے آگیا۔ یہ چھ قیدی 10 سال سے زیادہ عرصے سے عدالتی کارروائی کے بغیر ہی کیوبا میں امریکی اڈے پر قید تھے۔ یوراگوائے کے اس وقت کے صدر موخیکا نے دسمبر 2014 میں خود ایئرپورٹ پہنچ کر ان قیدیوں کا استقبال کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جو کچھ کررہا ہے وہ "ایسے انسانوں کے واسطے انسانیت پر مبنی ایک اقدام ہے جو گوانتانامو میں خوف ناک قید سے دوچار تھے"۔

چھ گرفتار شدگان : (4 شامی، 1 فلسطینی اور 1 تیونسی)

سابق قیدیوں میں شام کے چار باشندے جہاد احمد عدنان (38 سالہ)، علی حسین شعبان (34 سالہ)، عبدالہادی عمر فرج (41 سالہ)، جہاد دیاب (45 سالہ) تھے۔ ان کے علاوہ ایک 38 سالہ فلسطینی باشندہ محمد عبداللہ طہ معطان اور ایک 51 سالہ تیونسی عادل بن محمد الورغی بھی تھے۔

ان میں جہاد دیاب نے اپنے اہل خانہ کو یوراگوائے میں ساتھ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دیاب کی والدہ کا تعلق ارجنٹائن سے تھا جب کہ اس کی بیوی تین بچوں کے ساتھ استنبول میں مقیم تھی۔ مجموعی طور پر دیاب کے چار بچے تھے جن میں سب سے بڑا گزشتہ برس شام کے شمالی حصے میں سرکاری فوج کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔ ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دیاب ڈپریشن کا مریض تھا "تاہم اس کا خودکشی کی جانب میلان نہیں تھا"۔ اس کو ایک ہسپتال میں بھی رکھا گیا تھا جہاں اس کا ایک ماہ تک علاج ہوتا رہا۔


"روم میں وہ ہی کچھ کروں گا جو رومن کرتے ہیں"

مقامی اخبار " La Republica " میں منگل کے روز شائع ہونے والے انٹرویو میں موخیکا نے سابق قیدیوں کے سلوک کو ایک سے زیادہ مرتبہ ملامت کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس جناب بھی اشارہ کیا کہ مذکورہ قیدیوں کے "خراب" رویے کا بین الاقوامی سطح پر بہت اثر ہوا اور اس کی وجہ سے ملکوں نے گوانتانامو سے رہائی پانے والوں کا استقبال کرنے سے منع کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ سینیگال جلد رہا ہونے والے دو قیدیوں کو اپنے ملک میں ٹھہرائے گا۔

​موخیکا کا مزید کہنا تھا کہ " آپ کسی دور دراز ایسے گھر میں آ کر قیام نہیں کرسکتے جہاں کی ثقافت مختلف ہو اور پھر آپ وہاں اپنی مرضی کو تھوپیں۔ جیسا کہ مشہور ناول ڈان کے خوتے میں کہا گیا کہ " میں روم میں وہ ہی کچھ کروں گا جو رومن کرتے ہیں"۔ انٹرویو کے دوران موخیکا نے یوراگوائے کے حکام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان کے خیال میں چھ سابق قیدیوں سے زیادہ دیکھ بھال میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔

موخیکا نے مذکورہ چھ قیدیوں کے "برے سلوک" کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم مقامی اخبار "La Republica" نے بعض سرگرمیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں نمایاں ترین واقعہ یہ تھا کہ مئی 2015 میں ان میں سے تین سابق قیدیوں نے دارالحکومت مونتی بیدیو میں امریکی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا۔ یہ دھرنا سماجی امور کی وزارت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد کے کم حجم کے خلاف تھا۔ اخبار نے اس کارروائی کو اس "ملک کو بدنام" کرنے کی سرگرمی قرار دیا جس نے ان کے لیے اپنے بازو پھیلا دیے تھے اور ان کے لیے زندگی گزارنا اور قیام آسان بنایا تھا۔


بیوی کا تشدد اور اذیت رسانی کے خلاف مقدمہ

اس کے بعد جون 2015 میں ان میں سے ایک سابق قیدی تیونس کے عادل بن محمد الورغی نے ایک مقامی لڑکی سے شادی کرلی تاہم شادی کو سرکاری دفتر میں رجسٹر کرانے سے انکار کردیا۔ اس پر ایک بشپ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔ اخبار نے ان مطالبات کا بھی ذکر کیا جو ان سابق قیدیوں کی جانب سے وقتا فوقتا سامنے آتے رہتے تھے۔ کبھی گھر تبدیل کرنے، کبھی گھر کا سامان تبدیل کرنے اور کبھی مالی معاونت میں اضافے کے بارے میں۔ ان میں شام سے تعلق رکھنے والے جہاد دیاب نے ایک مقامی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ "وہ گوانتانامو سے رہا ہونے والے کسی بھی قیدی کے یورواگوائے آ کر قیام کو مسترد کرتے ہیں کیوں کہ یہاں کی حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کرتی ہے"۔

ادھر شام ہی سے تعلق رکھنے والے عبدالہادی عمرفرج نے ایک سال قبل یواراگوائے کی خاتون سے شادی کی اور اس نے بھی سرکاری دفتر میں شادی کے دستاویز کا اندراج کرنے سے انکار کردیا۔ رواں سال جنوری میں عبدالہادی کی بیوی نے اپنے شوہر کے خلاف تشدد اور اذیت رسانی سے متعلق مقدمہ دائر کردیا۔ حکام نے اس کو حراست میں لیا اور پھر کچھ عرصے بعد پاؤں میں ایک کڑا ڈال کر اس کو رہا کردیا۔ کڑا ڈالنے کا مقصد یہ تھا کہ عبدالہادی کی موجودگی کے مقام سے مطلع رہا جائے۔ علاوہ ازیں اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی بیوی کی رہائش گاہ سے بھی دور رہے۔ عبدالہادی کا مقدمہ ابھی تک زیر سماعت ہے۔ اسی وجہ سے "دنیا کے سابق غریب ترین صدر" کے نزدیک ان چھ افراد کا استقبال ایک بڑی بڑی غلطی تھی۔