گوانتانامو بے سے 6 قیدی یوروگوائے منتقل
امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتانامو بے میں قائم بدنام زمانہ حراستی مرکز سے چھے قیدیوں کو یوروگوائے منتقل کردیا گیا ہے۔
ان قیدیوں کو امریکا اور یوروگوائے کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت منتقل کیا گیا ہے۔یوروگوائے کے صدر ہاؤزے موجیکا نے ان قیدیوں کو قبول کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ان میں چار شامی، ایک تیونسی اور ایک فلسطینی ہے۔
ان تمام مشتبہ افراد کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں سنہ 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان پر ایک عشرے سے زیادہ عرصے بعد بھی کوئی فرد الزام عاید نہیں کی گئی تھی۔انھیں امریکی حکام نے 2010ء میں رہائی کے لیے کلئیر کردیا گیا تھا لیکن انھیں ان کے ممالک قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تھے اورامریکا کسی تیسرے ملک میں منتقلی کے لیے بات چیت کرتا رہا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایلچی کلفورڈ سلوآن کا کہنا ہے کہ ''ہم یوروگوائے کے اس اہم انسانی اقدام پر شکرگزار ہیں اور ان افراد کو پناہ دینے پر صدر موجیکا کے بھی ممنون ہیں کیونکہ ان کے اپنے آبائی ممالک بھی ان کو لینے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔
یوروگوائے کے صدر نے جنوری میں گوانتانامو بے کے ان سابق قیدیوں کواپنے ہاں قبول کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن امریکی حکام کی جانب سے ان کی منتقلی میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی ہے اور سبکدوش امریکی وزیردفاع چَک ہیگل پر ان کی منتقلی کی جلد منظوری نہ دینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل کئی ماہ تک ہیگل کی ڈیسک پر دستخط کے لیے پڑی رہی تھی کیونکہ قانون کے تحت ان کی منظوری ضروری تھی لیکن پینٹاگان نے اس کا نوٹی فیکشن جولائی تک کانگریس کو نہیں بھیجا تھا۔
اس کے بعد یوروگوائے میں انتخابات کی وجہ سے جنوبی امریکا کے اس ملک کے حکام نے 26 اکتوبر کو انتخابات کے انعقاد تک سیاسی وجوہ کی بنا پر مؤخر کردیا تھا۔ یوروگوائے کے سابق صدر اور صدر موجیکا کے حکمران اتحاد کے ایک رہ نما تباری وازکوئز نے 30 نومبر کو منعقدہ دوسرے مرحلے کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔
مذکورہ چھے قیدیوں کی گوانتانامو بے سے یوروگوائے منتقلی کے بعد اب میں اس حراستی مرکز میں موجود قیدیوں کی تعداد ایک سوچھتیس رہ گئی ہے۔ جنوری 2002ء میں اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کے قیام کے بعد قیدیوں کی یہ سب سے کم تعداد ہے۔ انھیں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران مختلف ممالک سے گرفتار کیا گیا تھا۔
صدر براک اوباما نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کانگریس نے اس کو بلاک کردیا تھا۔ان قیدیوں کو کسی بھی وجہ کی بنا پر امریکا منتقل کرنے پر پابندی کردی تھی اور انھیں بیرون ملک بھیجنے پر بھی قدغنیں عاید کردی تھیں۔اس کے بعد کانگریس نے بعض قدغنیں نرم کی ہیں۔امریکا نے اب تک گوانتاناموبے سے انیس قیدیوں کو رہا کیا ہے اور توقع ہے کہ باقی کو بھی اسی ماہ رہا کرکے دوسرے ممالک میں منتقل کردیا جائے گا۔
-
بحرین:سعودی عرب سے داخل ہونے والے دو مشتبہ دہشت گرد گرفتار
دونوں خلیجی شہری ہیں اور ماضی میں گوانتاناموبے میں قید رہ چکے ہیں
بين الاقوامى -
گوانتا نامو میں قید سعودی جنگجو کی وطن واپسی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کی ...
بين الاقوامى -
افغانستان میں یرغمال امریکی فوجی کی پانچ سال بعد رہائی
طالبان نے قطر کی ثالثی میں گوانتا نامو بے سے اپنے پانچ ساتھی رہا کرا لیے
بين الاقوامى -
گوانتا نامو بے: قیدیوں کو زبردستی خوراک نہ دینے کا حکم
امریکی عدالت نے قیدی کی درخواست پر فوج کو روک دیا
بين الاقوامى -
گوانتا نامو: نائن الیون کیس، عدالتی کمپیوٹر میں خرابی آ گئی
خالد شیخ و دیگر کیخلاف سماعت اگلے سال تک ملتوی ہو سکتی ہے
بين الاقوامى -
القاعدہ نے پاکستانی اور عراقی جیلوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی
گوانتا نامو بے سے قیدی چھڑانے کے لیے بھی کارروائی کر سکتے ہیں:الظواہری
بين الاقوامى