.

سعودیہ 2030: شہزادہ محمد بن سلمان کا "العربیہ" کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ آج (سوموار کو) اعلان کردہ سعودی ویژن پروگرام آیندہ 15 برسوں کے لیے مملکت کے ترقیاتی اور اقتصادی اہداف کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ ویژن پروگرام جاری رہے گا خواہ تیل کی قیمتیں بلند ہوں یا کم۔ انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ یہ پروگرام تیل کی بلند قیمتوں کا محتاج نہیں بلکہ اس کا تعلق تیل کی کم قیمتوں سے ہے۔ ہم 2020 میں تیل کے بغیر بھی جی سکتے ہیں۔

"العربيہ" کا انتخاب

اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں شہزادہ محمد نے میزبان معروف صحافی اور میڈیا پرسن ترکی الدخیل کو بتایا کہ انھوں نے العربیہ نیوز چینل کو اس لیے منتخب کیا "کہ اس طرح ان کا پیغام سعودیوں اور عربوں تک پہنچے گا"۔

نائب ولی عہد نے آرامکو کمپنی کے بارے میں بھی بات کی جس کو وہ سعودی ویژن 2030 کا ایک حصہ خیال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آرامکو کی پبلک آفر کا پہلا فائدہ شفافیت ہے۔ اس لیے کہ لوگ اس کا ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے تنگ آچکے ہیں، آرامکو کے حصص کی فروخت سے اس میں شفافیت کا پہلو آجائے گا اور یہ تمام امور بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی نگرانی میں عمل میں لائے جائیں گے۔ سعودی نائب ولی عہد کے مطابق اس کے آئی پی او کی مالیت تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگی۔

شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ہمیں مملکت میں تیل کی لت پڑ چکی ہے جس کی وجہ سے بہت سے شعبوں میں ترقی معطل ہوگئی۔ انھوں نے واضح کیا کہ شاہ عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں نے مملکت کو تیل کے بغیر قائم کیا اور چلایا تھا۔

نائب ولی عہد نے یہ بھی بتایا کہ سرمایہ کاری فنڈ کو آرامکو نہیں چلائے گی بلکہ ایک منجمنٹ بورڈ ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مذکورہ فنڈ دنیا بھر میں سرمایہ کاری کی 10 فی صد گنجائش کو کنٹرول کرے گا۔

سعودی عرب کی طاقت کے پہلو

شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے تین ایسے طاقتور پہلو ہیں جن میں کوئی ہمارا مقابل نہیں۔ "عرب اور اسلامی دنیا میں ہماری گہرائی، ہماری سرمایہ کاری کی قوت اور ہمارا جغرافیائی محلق وقوع یہ تین ہماری طاقت کی بنیاد ہیں۔ شاہ سلمان پل دنیا میں اہم ترین خشکی کی گذرگاہ ہوگا جو سرمایہ کاری اور تعمیرات کی دنیا میں بہت بڑے مواقع فراہم کرے گا۔ جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے سعودی عرب کے راستے کھربوں کی مالیت کا سامان گزرے گا"۔

"گرین کارڈ" اور سیاحت

گرین کارڈ منصوبے کے حوالے سے شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ اس سے عربوں اور مسلمانوں کا مملکت میں طویل عرصے تک قیام ممکن ہوسکے گا۔ یہ مملکت میں سرمایہ کاری کا ایک آلہ بھی ثابت ہوگا اور اس کا نفاذ آئندہ پانچ برسوں کے دوران ہوگا۔

شہزادہ محمد نے سعودی عرب میں ثقافتی خدمات کی کمی کا اعتراف کیا۔ اگرچہ مملکت میں ہزاروں برس سے معدوم تہذیبوں کا وجود ہے، ان سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے اور مملکت کی اقدار کے تحت سیاحت کے لیے میدان ہموار کرنا چاہیے۔

صاحب ثروت افراد

شہزادہ محمد کے مطابق وزارت مالیات میں سیکٹروں کے ڈھانچوں کی ازسرنو تشکیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انفرا اسٹرکچر سے متعلق تمام منصوبے جاری ہیں اور کسی چیز کو نہیں روکا جائے گا، "ہماری توجہ ہاؤسنگ اور بے روزگاری وغیرہ پر مرکوز ہوگی"۔

انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے ڈھانچے کی تشکیل نو سعودی شہریوں میں ملکیت کی شرح میں اضافہ کا سبب ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹیرف سپورٹ مملکت کے متوسط آمدنی یا متوسط سے بھی کم آمدن والے شہریوں کے لیے ہوگی اور اس سلسلے میں رکاوٹ ڈالنے والے صاحب ثروت افراد کو سائڈ لائن کردیا جائے گا، توانائی اور پانی کی سپورٹ کے ویژن کا نفاذ شہزادوں اور وزراء پر بھی ہوگا۔

عسکری صنعتیں

شہزادہ محمد کے مطابق مملکت نے ابھی تک معدنیات سے 5 فی صد سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا اور وہ بھی غیرمناسب طریقے سے۔ انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ فوجی اخراجات کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہونے کے باوجود سعودی عرب میں فوجی صنعت کا وجود نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری صنعتوں کے لیے ایک ہولڈنگ کمپنی قائم کی جائے گی اور اسے مارکیٹ میں 2017ء کے اواخر تک پیش کردیا جائے گا۔ اس طرح مملکت کے شہریوں کو فوجی معاہدوں کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہوسکیں گی۔

شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ "ہماری فوج عسکری اخراجات کے لحاظ سے تیسرے اور جائزے کی درجہ بندی میں بیسویں نمبر پر ہے اور یہ خرابی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب دنیا میں بدعنوانی کی کم ترین شرح رکھنے والا ملک ہو اور نج کاری انسداد بدعنوانی کا ایک اہم حصہ ہے"۔

انٹرویو کی تفصیلات :

سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے اپنے خصوصی انٹرویو کے آغاز میں العربیہ چینل کو انتہائی اہم عرب پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان کا پیغام سعودی باشندوں اور عربوں تک اچھی طرح پہنچے گا۔

سعودی ویژن 2030 اور اس میں تیل پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کے کردار سے متعلق سوال کے جواب میں شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ویژن 2030 درحقیقت آیندہ 15 برسوں کے دوران ہمارے ترقیاتی اور اقتصادی اہداف کا روڈ میپ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آرامکو کمپنی اس ویژن، معیشت اور مملکت سعودی عرب کی حیات نو کے لیے مرکزی کنجیوں میں سے ہے۔

آرامکو کے آئی پی او کے متعدد فوائد ہوں گے جن میں اہم ترین شفافیت ہے۔ آرامکو کے معاملات اور اس کا ڈیٹا غیر علانیہ، غیر واضح اور غیرشفاف ہونے سے متعلق لوگوں کی شکایات باقی نہیں رہیں گی۔ مارکیٹ میں آنے کے بعد لازما اسے ہر سہہ ماہی کی رپورٹ کا اعلان کرنا ہوگا۔ اس طرح وہ تمام سعودی بنکوں، سعودی تجزیہ کاروں اور دانش وروں کی نگرانی کے علاوہ تمام عالمی بینکوں اور تحقیقی و منصوبہ بندی کے مراکز کی نظروں میں رہے گی۔

آرامکو آج محدود پیمانے کی سہولت کار کمپنی کے طور پر کام کررہی ہے جو اتنی بڑی کمپنی کے لیے بہت خطرناک بات ہے۔اس کا حجم بہت بڑا ہے ابھی تک اس حجم کا حتمی جائزہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ تاہم ہمیں توقع ہے کہ اس کا حجم 20 کھرب ڈالرز سے زیادہ ہوگا یعنی کہ ہم 70 کھرب ریال سے زیادہ کی بات کررہے ہیں۔

اگر کمپنی کا 1 فی صد بھی آفر میں پیش کیا جائے تو وہ کرہ ارض کی تاریخ میں سب سے بڑی آئی پی او ہوگی۔ ایسی صورت میں عالمی منڈی آرامکو کے 5 فی صد کی آفر کی متحمل ہوسکتی ہے؟

آرامکو کی آفر یقینا سعودی مارکیٹ میں ہوگی مگر ہم بیرونی سرمایہ کاروں کی شرکت کے لیے سوچ رہے ہیں۔ اس کے لیے یہ ہوسکتا ہے کہ صرف امریکی مارکیٹ میں ایک فند بنایا جائے جس کے ذریعے ارامکو کے حصص خریدے جاسکیں۔ اس طرح کا آؤٹ لٹ ارامکو کے حصص کے لیے رواں اثاثے مہیا کرنے کے لیے اہم ترین ہوگا۔

ارامکو کمپنی کی پبلک آفرنگ پر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے ارامکو کی "حرمت پر آنچ" آئے گی۔ سعودی نائب ولی عہد نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں نے جب مملکت قائم کی تو اس میں تیل نہیں تھا۔ بنا تیل کے انہوں نے مملکت قائم کی، اس کو چلایا اور اس میں رہے۔ انہوں نے برطانوی سامراج کو چیلنج کیا تیل کے بغیر بھی برطانیہ سعودی عرب کی بالشت بھر زمین میں داخل نہ ہوسکا۔ آج یہ تیل ایسا ہوگیا گویا کہ ہمارا دستور یعنی قرآن و سنت اور پھر پٹرول، یہ انتہائی خطرناک امر ہے۔ مملکت میں ہمیں نشے کی مانند تیل کی لت پڑ گئی ہے اس کی وجہ سے گزرے سالوں میں بہت سے سیکٹروں کی ترقی معطل ہوگئی۔

ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ تیل آپ کی سرمایہ کاری میں کام آتا ہے نہ اس سے زیادہ اور نہ کم۔ سرمایہ کاری ایک ایسی کمپنی ہے جس کی اپنی مالیت ہوتی ہے اور آپ کو چاہیے کہ اسے سرمایہ کاری کی طرح اپنے پاس رکھیں نہ کہ آمدن کے مرکزی ذریعے کی حیثیت سے۔

ارامکو کی پبلک آفرنگ سے متعلق سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ ارامکو مادر کمپنی کے 5 فی صد سے کم حصص پیش کیے جائیں گے۔ ہم اس کمپنی کو علاحدہ کرکے ہولڈنگ کمپنی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس میں کوئی آپریشن نہیں ہوگا بلکہ آپریشن صرف آرامکو کی ملکیت میں موجود کمپنیوں میں ہوگا۔

ارامکو کمپنی کے آئی پی او کو پیش کرنے، چلانے اور آرامکو میں سرمایہ کاری کو دیکھنے والے فنڈ (انویسٹمنٹ کمپنی) کو درپیش ممکنہ خطرات کے بارے میں شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کا فنڈ مستقبل میں ارامکو کو نہیں چلائے گا۔ ارامکو کو منجمنٹ بورڈ چلائے گا۔ اس بورڈ کو جنرل باڈی سے منتخب کیا جائے گا جو فنڈ، شہریوں، اور اندرون و بیرون ملک سرمایہ کاری کے ادارے کی نمائندہ ہوگی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ سرمایہ کاری فنڈ کرہ ارض پر مجموعی سرمایہ کاری کی گنجائش کا دس فی صد سے زیادہ کنٹرول کرے گا اور اس فنڈ کے اثاثوں کا حجم کرہ ارض پر موجود اثاثوں کا 3 فی صد سے زیادہ ہوگا۔

لینڈ سیکٹر کو استعمال میں لانے کے حوالے سے شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مملکت میں اراضی کی ترقی سے شہروں کے مسائل حل کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔ قطعہ اراضی کے لحاظ سے بہت زیادہ اثاثے ہیں جن کو ابھی تک استعمال میں نہیں لایا گیا۔ ان کو سیاحت اور دیگر سیکٹروں کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ توقع ہے کہ ان اثاثوں کا حجم 10 کھرب ریال تک پہنچ جائے گا۔

شہزادہ محمد نے بتایا کہ مملکت کی ملکیت میں تمام اراضی کو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت مین دینے کے اقدامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ فنڈ بڑے مواقع سے فائدہ اٹھائے گا۔ ان اراضی کو منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ فنڈ کو کمپنی میں بدل کر مکمل طور پر مارکیٹ میں آفرنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ برس پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل ہوئی ہے اور جلد ہی اس کے بارے میں مکمل پروگرام کا اعلان کردیا جائے گا کہ فنڈ دولت کا استعمال کس طرح کرے گا اور فنڈ کس طرح سے فیصلے کرے گا۔

سعودی نائب ولی عہد نے بتایا کہ میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے بورڈ آف منجمنٹ کا سربراہ ہوں۔ تاہم فیصلہ میرے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ بورڈ کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو سب کے سامنے اعلان کردہ میکانزم کے تحت کیا جاتا ہے۔ میں اس انتظامیہ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔

شہزادہ محمد کے مطابق واضح تجزیے اور ویژن کی بنیاد پر فنڈ کے نظام میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ اس سے قبل یہ اچھی صورت میں کام نہیں کررہا تھا اور نہ ہی اس کا منافع بلند سطح پر تھا۔ صرف 2015 میں ہم نے اس فنڈ کے ذریعے 30 ارب ریال کے قریب منافع یقینی بنایا جس کے نتیجے میں 2015 میں نان- آئل آمدنی میں 35 فی صد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ آج جاری ہونے والے ویژن پروگرام میں تین مرکزی محوروں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

پہلا نقطہ یہ کہ سعودی عرب حرمین شریفین کے وجود کے سبب عرب اور اسلامی دنیا میں گہرائی کا حامل ہے۔

دوسرا نقطہ یہ کہ سعودی عرب معیشت کو حرکت میں رکھنے والی سرمایہ کاری کی قدرت رکھتا ہے جو ملک کے لیے اضافی وسائل ہے۔

تیسرا نقطہ یہ کہ سعودی عرب کے تزویراتی محل وقوع میں سرمایہ کاری کی کشش۔ اس وصف کے ساتھ کہ یہ دنیا کے لیے ایسا گیٹ وے ہے جو تین براعظموں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔

تاہم ان بنیادی محوروں کے ساتھ انسانی ترقی بھی ناگزیر ہے۔ اسی طرح ویژن میں دیگر عوامل بھی شامل ہیں جن کے بغیر چارہ کار نہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنے مضبوط پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے خودمختار فنڈ، حکومتی ملکیت کے دیگر فنڈز اور سعودی تاجروں اور کاروباری شخصیات کے ذریعے سرمایہ کاری کی طاقت ہوگا۔ جی ہاں سعودی ذہنیت سرمایہ کاری کی ذہنیت ہے جس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہماری سرمایہ کاری کی طاقت ایسی ہونی چاہیے جو سعودی مارکیٹ کو بھی متحرک کرے اور عالمی مارکیٹ کو بھی۔

سعودی عرب کے جغرافیائی محل وقوع پر روشنی ڈالتے ہوئے سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی ممتاز جغرافیائی مقام پر موجود ہیں۔ دنیا میں تقریبا صرف ہمارے پاس ہی 3 اہم ترین آبنائے (سمندری راستے) موجود ہیں۔ عالمی تجاری کا 30 فی صد حصہ ہمارے ذریعے سمندر سے گزرتا ہے۔ اب سعودی عرب اور مصر کے درمیان شاہ سلمان پل کی تعمیر کے بعد دنیا میں اہم ترین خشکی کی گزرگاہ ہمارے پاس ہوگی۔ یورپ سے ایشیا کے لیے تجارت کا مرکزی حصہ ہمارے ذریعے گزرتا ہے۔ لوجسٹک خدمات کے میدان میں ہمارے پاس بہت بڑے مواقع ہیں خواہ ہوابازی یا بندرگاہوں یا صنعتی کمپلیکسوں یا پھر تجارتی مرکز کے میدان میں۔ اس گزرگاہ کے ذریعے اربوں ڈالر مالیت کا سامان گزرے گا جس کے نتیجے میں معیشت کے لیے بہت بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔ نئی صنعتیں بنیں گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ساتھ ہی عالمی معیشت کے پروان چڑھنے میں بھی مدد ملے گی۔

ویژن کے حوالے سے ہمیں اپنی تین بنیادوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمیں دیگر پہلوؤں پر توجہ نہیں دینا چاہیے جن میں ہم کمزور ہیں اور انہیں طاقت ور انداز سے پروان نہیں چڑھاسکتے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا یہ ویژن پروگرام تیل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے متعارف کرایا گیا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہر گز نہیں، اس ویژن پروگرام کو تو شروع ہونا ہی تھا خواہ تیل کی قیمتیں زیادہ ہوتی یا کم۔

اگر تیل کی قیمتیں پھر سے بڑھ کر 70 ڈالر پر مستحکم بھی ہوجائیں تب بھی ویژن پروگرام پر عمومی صورت میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو تو یقینا اس سے ایک طاقت ور سپورٹ حاصل ہوگی اور اس سے بہت سے اقدامات آسان ہوجائیں گے تاہم ویژن کے لیے تیل کی بلند قیمتوں کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ تو تیل کی کم قیمتوں کے ساتھ معاملہ کرنے والا ہے۔

سعودی نائب ولی عہد سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا وہ اس تاریخ کا تعین کرسکتے ہیں جب مملکت کو تیل کی آمدن کی ضرورت نہیں رہے گی اور اس کا انحصار دیگر ذرائع آمدن پر ہوگا۔ اس کے جواب میں شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں 2020ء میں یعنی اگر اس وقت تیل رک بھی گیا تو ہم جی سکتے ہیں۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے ضرورت ہے مگر 2020 ء میں ہم اس کے بغیر بھی زندگی گزار سکتے ہیں۔

ویژن میں مملکت کے شہریوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے سے متعلق پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ جی ہاں یہ ویژن پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے لیے شہریوں کے تعاون کی بھی ضرورت ہے تاکہ بہتر معیار زندگی کو برقرار رکھا جاسکے بلکہ اچھا کیا جاسکے۔

اس سلسلے میں سب کا مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ آج ہم سب کو قائل کرنے کے لیے بڑی کوششوں میں مصروف ہیں خواہ سرکاری ادارہ ہو یا ایگزیکٹو اتھارٹی، یا قانون ساز اتھارٹی، یا عدلیہ اور یا پھر عام شہری ہوں یا کاروباری شخصیات۔ سعودی ہونے کی حیثیت سے یہ ہم سب کا راستہ ہے اس لیے ویژن میں ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

شہزادہ محمد سے ویژن پروگرام میں حج اور عمرہ عازمین کو مزید آسائشی سہولیات پیش کرنے سے متعلق منصوبوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ اس وقت ہر سال 80 لاکھ متعمرین سعودی عرب آتے ہیں۔ 2020ء میں یہ تعداد 1.5 کروڑ اور 2030 میں 3 کروڑ ہوجانے کی توقع ہے۔

اس سلسلے میں سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انفرا اسٹرکچر کا کچھ حصہ موجود ہے۔ جدہ کا نیا ایئرپورٹ اور طائف ایئرپورٹ اس ویژن پروگرام کے لیے بہت بڑے پیمانے پر کام میں آئیں گے۔ وہ اس بڑھتی تعداد کو اپنے اندر سمو لیں گے۔ ہم اس وقت جلد از جلد مکہ میں میٹرو شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مکہ کا انفرا اسٹرکچر بہت مضبوط ہے جو اس خطیر پروگرام کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے۔ لہذا اس سلسلے میں اب آسان امور کی ضرورت ہے۔ حرم مکی کے اطراف میں بہت اراضی موجود ہے خواہ حکومتی ملکیت میں یا شہریوں کی، اس اراضی سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی چیلنج ہے بس اقدامات اور کام کو منظم کرنے کی بات ہے۔

ویژن پروگرام میں بیوروکریسی کے پہلو پر بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ہم منفی بیوروکریسی کے دشمن ہیں۔ بیوروکریسی کا مطلب ہے کام کو منظم کرنا۔ اگر بیوروکریسی نہیں ہے تو اس کا مطلب انارکی اور اس کا مطلب ہے خیمے والی انتظامیہ۔ ہم ایسی سبک رفتار اور چاق و چوبند بیوروکریسی چاہتے ہیں جو فیصلہ کرنے میں مددگار ہو اور صحیح وقت پر فیصلہ کرسکے۔ مملکت کے فرماں روا نے ایگزیکٹو اتھارٹی کو سر سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا تاکہ وہ تیزرفتاری سے کام کرسکے۔ اقتدار سنبھالنے کے آغاز پر کابینہ کی تشکیل نو عمل میں اس کے علاوہ حکومت میں چوٹی کے منصبوں کے ڈھانچے کو ازسرنو منظم کیا گیا۔ اس سلسلے میں دو نئی کونسلیں بنائی گئیں اور بہت سی کونسلوں کو ختم کیا گیا۔ یہ چیزیں اس واسطے بہت مددگار ثابت ہوئیں کہ اعلی ترین اتھارٹی فعال اور پھرتی کے ساتھ کام کرے تاکہ ان چیزوں کو یقینی بنایا جاسکے جو آج ہم چاہ رہے ہیں۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ایک سال اور چند ماہ کی حکومت کے دوران اہداف کےحصول سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سنہ 2015ء ’کویک فیکس‘ اور فوری اصلاحات کا سال تھا۔ ہم جس ہدف کا ایک اندازہ اور تخمینہ لگاتے ہیں اسی کے مطابق اس کا پلان بناتے اور نتائج کا انتظار کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے مشکلات بھی ہیں اور آگے بڑھنے کے مواقع بھی۔ آپ کو صرف پلاننگ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ سنہ 2015ء اور 2016ء کے فوری اقدامات ’کویک فیکس‘ ہیں۔ یہ تمام اقدامات پوری منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے طے کیے گئے ہیں۔ جہاں تک سنہ 2017ء کے سال کی بات ہے تو یہ سال آئندہ پندرہ سال سعودی ویژن کا حصہ ہے۔

العربیہ کی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ثقافتی اور تفریحی ویژن کے درمیان بھی فرق کیا، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس اقدام کے اغراض ومقاصد کیا ہیں؟ اس پر نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ جب ہم تفریح اور اس کے معاشی پہلو پر بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے اس شعبے میں سعودی عرب کو حاصل ہونے والی آمدن ہوتی ہے۔ اس باب میں سعودی عرب بدترین ممالک میں نہیں بلکہ بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملکوں میں تفریح کے شعبے کی آمدن اتنی زیادہ نہیں مگر اس کے باوجود ان ملکوں کی اقتصادی حالت بہتر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں تفریح کے مواقع زیادہ ہیں۔ ان کے ہاں ماحول مناسب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ثقافت اور تفریح دو ایسے شعبے ہیں جو سعودی عرب کی معیشت کو مختصر وقت میں بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں کو الگ الگ ہی ڈیل کرنا مناسب رہے گا۔

شہزادہ سلمان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کا سب سے بڑا اسلامی میوزیم قائم کرنے کے ساتھ ساتھ یونیسکو میں سعودی عرب کے تاریخی مقامات کی تعداد بڑھانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک میں تفریح کے مواقع میں اضافہ کیا جا سکے۔

سیاحت کے فروغ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس عالمی سطح پر سیاحوں کو کشش دلانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ سعودی عرب ایک اہم مسلمان ملک ہے۔ ہم پوری اسلامی دنیا کے قبلہ وکعبہ کے متولی ہیں۔ اس لیے یہ بات زیادہ مناسب اور عقل کے قریب ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی دنیا کا سب سے بڑا اسلامی عجائب گھر ہو تاکہ پوری دنیا سے اسے دیکھنے کے لیے لوگ سعودی عرب کھچے چلے آئیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ سعودی عرب کی تاریخی اہمیت کم کرنے کے لیے یہ تاثر دیتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کی تاریخ صرف 1400 سال پر محیط ہے جب کہ دنیا کے دوسرے خطوں میں تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ان کے پاس انسانی تہذیب وتمدن کے زیادہ وسائل موجود ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں۔ جزیرۃ العرب کی تاریخ بھی ہزاروں برسوں پر محیط ہے۔ ہماری تاریخ اور تہذیب وتمدن دوسری تہذیبوں سے کئی حوالوں سے ممتاز ہے۔ ہمارے پاس اخلاقی قدریں ہیں، انسانیت سے ہمدردی کے اصول ہیں جو دنیا کے دوسرے خطوں کی تہذیبوں میں نہیں۔ کون کہتا ہے کہ ہم عالمی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں؟

العربیہ کی جانب سے پوچھا گیا کہ آپ تمام اقوام کے لیے سعودی عرب میں سیاحت کا دروزاہ کھولنا چاہتے ہیں؟ اس پر نائب ولی عہد نے کہا کہ پوری انسانی برادری کو ساتھ لے کر چلنا ہماری اقدار اور عقاید کا حصہ ہے۔

ان سے یہ پوچھا گیا کہ 'گرین کارڈ' حاصل کرنے والے دوسرے ممالک کے باشندے بھی سعودی عرب میں قیام کر سکیں گے؟ اس کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کی آمدن میں اضافے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت آمدن کے دو بڑے ذرائع ہیں۔ پہلا ذریعہ سرمایہ کاری اور تیل کے متبادل ذرائع آمدن ہیں۔ آمدن کا ایک ذریعہ ایسا ہے جس کا سرمایہ کاری سے تعلق نہیں۔ مثلا ٹیکسوں کا نظام مربوط بنانا ہے۔ ماضی میں بھی سعودی حکومتیں اس بات کا تعین کرتی ہیں تھیں کہ ان کی آمدن کے اہداف کیا ہو سکتے ہیں۔

ہم نے غور وخوض کے بعد یہ نیتجہ اخذ کیا ہے کہ آمدن کے 70 سے زیادہ ایسے ذرائع بھی ہیں جنہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ جب اب ہم ذرائع آمدن کی طرف بڑھیں گے تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہم سالانہ ڈیڑھ کھرب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ کما سکیں گے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں آمدن کے ان 70 نکات پرعمل درآمد کے لیے بھی اخراجات ہوں گے اور اس کے نتیجے میں اقتصادی کساد بازاری بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ افراط زر میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے گرین کارڈ کا تصور پیش کیا ہے۔

گرین کارڈ کے پس پردہ کیا حکمت کار فرما ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں بڑی تعداد میں غیر ملکی مسلمان اور غیر مسلم موجود ہیں۔ دوسرے عرب ملکوں کے باشندے ہمارے ہاں قیام پذیر ہیں اور وہ سال ہا سال سے سعودی عرب میں رہ رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو سعودی عرب کی نیم شہریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب ہم انہیں حقوق دیتے ہیں تو اس کے بدلے میں سعودی عرب کو ان سے فایدہ بھی حاصل کرنا چاہیے۔ ان کی آمدن سے حاصل ہونے والا پیسہ بیرون ملک منتقل ہو رہاہے۔ ہم انہیں سعودی عرب کے اندر ہی سرمایہ کاری کا موقع فراہم کریں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ گرین کارڈ کے ذریعے غیر ملکیوں کو حاصل ہونے والے حقوق سعودی شہری کے حقوق کی طرح ہوں گے۔ وہ ملک میں کہیں جا سکے گا۔ کاروبار کر سکے گا۔ ہم ان کے لیے سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع پیدا کریں گے اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب کی معیشت تیزی سے پھلنا پھولنا شروع ہوگی۔ آئندہ پانچ سال میں گرین کارڈ کی نئی پالیسی پرعمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

شہزادہ سلمان سے انٹرویو کے دوران العربیہ کے جنرل منیجر ترکی التدخیل نے پوچھا کہ آپ نے ویژن 2030ء کا اعلان کیا۔ کیا اس پندرہ سال منصوبے کے اندر ذیلی سطح پر پانچ سال یا دس سال کے اہداف بھی مقرر کئے گئے ہیں؟

اس پر انہوں نے کہا کہ ویژن کے مطابق ہم نے پانچ پانچ سال کے تجرباتی اہداف مقرر کیے ہیں مگر یہ تمام اہداف سنہ 2030ء کے سعودی ویژن ہی کا حصہ ہیں۔ ہم نے پندرہ سال کے بعد اس دیکھنا ہے کہ ہم اپنے اہداف کے حصول میں کتنے کامیاب رہے؟ اس دوران سعودی عرب میں سرمایہ کاری بنک کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل نو، ارامکو کے ڈھانچے کی تبدیلی، قومی تبدیلی پروگرام، عالمی تزویراتی شراکت پروگرام جیسے تمام پروگرامات پانچ پانچ سال کے اہداف کے مطابق ہی ترتیب دیے گئے ہیں۔

پلاننگ کی حد تک تو آپ کے تمام منصوبے شاندار ہیں، مگر کیا انہیں عملی شکل میں لانے کے لیے کوئی نگراں ادارہ بھی قائم کیا گیا ہے؟

اس پر شہزادہ سلمان نے کہا کہ ’جی ہاں‘ ویژن 2030ء کے تمام پروگرمات اور اہداف کے حصول اور ان کی نگرانی کے لیے ’پی ایم او‘ یعنی Preject management office [منصوبوں کا نگران انتظامی دفتر] قائم کیا جائے گا۔

پی ایم او کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ اس ادارے کا اہم مقصد تمام منصوبوں کو رجسٹرڈ کرنا اور ان کے اہداف مقرر کرنا ہو گا۔ یہ ادارہ ہر چار سال بعد منصوبوں اور اہداف کا ایک جائزہ لے گا اور حکومتی اداروں کو اس حوالے سے اپنی رپورٹ دے گا۔ پروجیکٹ منیجمنٹ آفس ہر چار سال بعد اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے گا، رپورٹ میں منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل بھی تجویز کرے گا۔

منصوبوں میں شفافیت سے متعلق پوچھے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کے دور عوام سے کسی چیز کو چھپانا ممکن نہیں رہا ہے۔ عصر حاضر میں کسی بھی پروجیکٹ کی کامیابی کے لیے اس کی شفافیت اہم ترین چیز ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم اسپیشل سیکٹر اور پبلک سیکٹر کو بھی منصوبوں کے بارے میں مطلع کرتے رہیں۔ شفافیت کسی بھی منصوبے کی کامیابی کی کلید ہے۔ جب تک شفافیت بدرجہ اتم نہ ہو اس وقت تک کوئی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ حکومتی پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کی عوامی حمایت کے لیے نگرانی کا نظام موثر بنانا پڑتا ہے۔

حکومتی اخراجات میں کمی بیشی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ ویژن 2030ء کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت کو غیرمعمولی اضافی اخرجات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہمیں مخصوص اداروں اور سیکٹرز کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے کچھ اخراجات تو کرنا پڑیں گے مگر بہت زیادہ نہیں۔ حکومتی اخراجات کنٹرول کرنا سنہ 2015ء کی حکومتی پالیسی میں شامل ہے اور اس کے شاندار نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومتی اخراجات کنٹرول کرنے کا مقصد بنیادی ڈھانچے اور مقامی سطح پر جاری ترقیاتی پروگراموں کو بند کرنا نہیں۔ ترقیاتی کام اپنے معمول کے مطابق جاری ہیں گے۔

انسانی وسائل کی بہتری کے لیے تزویراتی پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد نے کہا کہ سعودی عرب کے شہریوں میں ٹیلنٹ اور قابلیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سعودی عرب کے شہری انتہائی ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ نوجوانوں کے پاس شجاعت وبہادری اور غیر معمولی ثقافتی صلاحیتوں کی وسیع طاقت موجود ہے۔ سعودی شہری ہر کام پیشہ وارنہ مہارت کے ساتھ کرنے کا گر جانتے ہیں۔ ہم سعودی شہریوں کو روشن مستقبل دینے کے لیے ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار لانے کی پوری کوشش کریں گے۔ ان کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اگلے پندرہ سال منصوبے میں سعودی عرب میں نئی نسل کے لیے بہترین تعلیمی نظام کے اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔

کل کے سعودی عرب کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہماری تمام سوچوں کا محور اور مرکز صرف یہ ہے کہ ہم عوام الناس کے مسائل کو کیسے بہتر انداز میں حل کریں، بے روزگاری کا کیسے خاتمہ کیا جائے۔ ایک سعودی شہری کی حیثیت سے یہی ہماری خواہشات ہیں۔ ہمارے پاس وسائل اور مواقع بہت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پوری اولوالعزمی کےساتھ آبادی کے مسائل کے حل اور بے روزگاری کے خاتمے کی کوششیں کریں گے۔ ہمارے ذہن میں یہ سوالات موجود ہیں کہ ہمیں اپنے ملک کو کیسے دنیا کی بہترین اقتصادی اور معاشی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔ ہم کس طرح پرکشش اور بہترین ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں کن بنیادوں پر اپنے وطن پر فخر کرنا ہو گا۔ ہم علاقائی اور علامی تعمیر وترقی، تہذیبی، ثقافتی، معاشی اور نظریاتی میدانوں میں کیسے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے ان اہداف کے حصول کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں ان شاء اللہ ہم تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

صحت کے شعبے میں بہتری کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں اوسط عمر 74 سال ہے اور دنیا کے کچھ خطوں میں اوسط عمر 80 برس ہے۔ سعودی عرب کی حکومت بھی اپنے شہریوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔

ترکی الدخیل نے پوچھا کہ آپ نے کہا ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں 47 فی صد شہریوں کے پاس اپنا گھر ہے اور آپ سنہ 2020ء تک اس شرح کو 52 فی صد تک لانا چاہیں گے؟ عملا یہ کیسے ممکن ہوگا۔

اس کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ باوقار رہائش سعودی عوام کے بنیادی مسائل میں ایک اہم مسئلہ اور حکومت کے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ہم اس وقت رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔ سعودی عرب میں مکانوں کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کی 70 فی صد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ حکومت ان تک 47 فی صد بے گھر افراد کو گھر فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگلے چار سال کے دوران مزید پانچ فی صد بے گھر افراد کو اپنا گھر دیا جائے گا۔

آپ نے کہا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 11 فی صد سے کم کرکے چھ اور سات فی صد تک لائی جائے گی۔ کیا آپ کے ایسے پروجیکٹ ہیں جو بے روزگاری میں کمی کا ذریعہ بن سکیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ویژن 2030ء کے تحت جو حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے اس میں ایسے منصوبے شامل ہیں جنہیں روبہ عمل لانے سے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں حکومت پبلک سیکٹر، سول سیکٹر اور نجی شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں سے بھی تعاون کو مربوط بنائے گی تاکہ شہریوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ سعودی شہریوں کی اندرون ملک کاروبار کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کرکے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

بنیادی اشیاء بالخصوص پانی اور بجلی پر سبسڈی دیے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ کافی پیچیدہ ہے مگر اس سلسلے میں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔

پانی وبجلی کے وزیر کی برطرفی کیا عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کا سبب تھی؟ اس پر شہزادہ سلمان نے کہا کہ ہم عوامی فلاح وبہبود کے 2015ء کے پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سبسڈی سے 70 فی صد امراء کو فائدہ پہنچ رہا تھا جب کہ متوسط اور نچلے طبقے کے صرف 30 فی صد افراد ہی اس سے مستفید ہو رہے تھے۔

امیر لوگ سبسڈی سے کیسے فایدہ اٹھاتے ہیں؟ اس پرسعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ امیروں کے پاس بڑی بڑی کوٹھیاں ہیں۔ وہ بجلی اور پانی کا استعمال بھی سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ امراء کے کئی کئی شہروں میں گھر ہیں۔ ایک امیر اور دولت مند شخص دس اور بیس متوسط گھرانوں کے برابر بجلی اور پانی کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے لیے بجلی اور پانی کی بلوں کی ادائیگی مشکل نہیں۔ اس لیے اسے حکومتی سبسڈی سے استفادے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اس وقت ہمارا اگلا ہدف سبسڈی کے نظام کو از سر نو مرتب کرنا ہے۔ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے تیس فی صد شہری حکومتی سبسڈی سے کیسے استفادہ کر سکتے ہیں۔

کم آمدنی والے افراد کے لیے سبسڈی کے مربوط نظام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنا تو کافی مشکل ہے اور ایک سال سے اس پرغور کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ہم اس کا کوئی حل نکال لیں گے۔

ترکی الدخیل نے شہزادہ محمد بن سلمان سے کہا کہ آپ بار بار یہ کہتے ہیں کہ امراء کو سبسڈی کے استفادے کا کوئی حق نہیں۔ کیا اس نوعیت کے بیان سے دولت مندوں میں حکومت کے خلاف غم وغصہ پیدا نہیں ہو گا؟۔

اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم سب سے پہلے تو میں یہ اصول اپنی ذات پر نافذ کروں گا۔ اگر میرا شمار امراء میں ہوتا ہے تو مجھے سرکاری سبسڈی سے فائدہ اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر کسی کو سبسڈی کا حکومتی پلان منظور نہیں وہ بے شک دیواروں سے سر ٹکراتا پھرے۔

العربیہ کی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان سے پوچھا گیا کہ آپ نے متعدد بار کہا کہ ہم کان کنی کے شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہوئے 90 ہزار افراد کو روزگار فراہم کریں گے اور شعبے سے سالانہ 97 ارب ریال کمائیں گے۔ آپ یہ ہدف کیسے حاصل کریں گے؟

اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں زیر زمین بے پناہ قدرتی وسائل اور قیمتی دھاتیں موجود ہیں۔ کرہ ارض کا چھ فی صد یورینیم سعودی عرب میں ہے۔ یہ تیل کے متبادل ایک خزانہ ہے، اس کے علاوہ سونا، چاندی، فاسفیٹ اور تانبے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان قیمتی معدنیات سے سعودی عرب کھربوں ڈالر کا زر مبادلہ کما سکتا ہے۔ اب تک سعودی عرب معدنیات سے صرف تین سے پانچ فی صد فایدہ اٹھا سکا ہے۔

فوجی صنعت کی ترقی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میدان میں سنہ 2014ء میں سعودی عرب اخراجات کرنے والا چوتھا بڑا ملک تھا اور سنہ 2015 کے دوران فوجی صنعت کے اعتبار سے سعودی عرب دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا۔ فوجی صنعت کے میدان میں ہمارے پروجیکٹ صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ برطانیہ، فرانس سمیت کئی دوسرے ملکوں میں موجود ہیں۔ ہم فوج کے شعبے کے لیے مصنوعات کی تیاری میں صرف سعودی عرب کی اپنی ضروریات کے پابند نہیں بلکہ سعودی عرب کی تیار کردہ فوجی مصنوعات کو پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے۔ اس وقت ہم فوجی صنعت کی 30 فی صد تیار کر رہے ہیں۔ ہمارا اگلا ہدف اس شرح کو 50 فی صد تک لانا ہے۔ فوجی صنعت کا شعبہ بھی جہاں ملکی زرمبادلہ میں اضافے کا ذریعہ ہے وہیں یہ صنعت ہزاروں افراد کو روزگار کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سعودی مملکت میں انسداد بدعنوانی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ اگر سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز ملک سے بدعنوانی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کا عزم نہ رکھتے تو ایک سال پہلے انسداد کرپشن کے شعبے میں تبدیلیاں نہ لاتے اور اس شعبے کے سربراہ کو ان کے عہدے سے نہ ہٹاتے۔ انسداد بدعنوانی کے حوالے سے یہ ایک مثال ہی کافی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے تسلیم کیا کہ کرپشن تمام حکومتوں اور تمام معاشروں کا حصہ رہی ہے۔ کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ اس لیے سعودی عرب بھی کرپشن کی روک تھام کے لیے پوری تن دہی سے سرگرم عمل رہا ہے۔

انٹرویو کے اختتام پر کرپشن کی روک تھام سے متعلق ہی ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ کرپٹ عناصر کے تعاقب کے لیے انسداد بدعنوانی کے ادارے میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں تاکہ کرپشن کو زیادہ سے زیادہ مشکل بنایا جائے۔