تعویذ اور فریب کے درمیان فرق جانیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

رواں ہفتے العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "مهمة خاصة" کا موضوع شرعی تعویذ اور جھاڑ پھونک ہے۔

طبی معالجین کی جانب سے ناامید ہو جانے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے جسمانی اور نفسیاتی آلام اور مصائب سے نجات حاصل کرنے کے لیے تعویذ اور جھاڑ پھونک کا سہارا لیتی ہے۔ تاہم صحیح تعویذ دینے والوں اور ان کے مشابہہ افراد میں الجھا دینے والے اختلاط کی وجہ سے عام آدمی کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ شرعی تعویذ کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا شیخ یا اس کو کمائی کا ذریعہ بنانے والے کے درمیان فرق کر سکے۔

اسلامی ثقافت کے مطابق شرعی تعویذ اور قرآن سے علاج معتبر شرعی دلائل سے ثابت ہے۔ تاہم بعد ازاں یہ کاروبار ، فریب اور لوگوں کے مال کو لُوٹنے کے ذریعے میں تبدیل ہو گیا۔ بعض لوگ اس کو مشہور ہونے کا ذریعہ بھی بناتے ہیں۔

روحانی علاج کی دو صورتیں ہیں.. پہلی صورت میں تو کتاب و سنت اور صحابہ و سلف صالحین کے طریقہ کار پر عمل کیا جاتا ہے ، اس کو شرعی تعویذ کہتے ہیں۔ دوسری صورت میں شعبدے بازی کا سہارا لے کر جنوں کی موجودگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس دوران دُھونی ، پانی اور جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

مختلف امراض میں مبتلا افراد علاج کے حصول اور شفایاب ہونے کے واسطے خود کو ایسے معالجین کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں جو کسی قسم کی طبی اہلیت نہیں رکھتے اور مریضوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ایک دوسری پراسرار دنیا میں لے جاتے ہیں۔

تعویذ دینے والوں نے عطاریوں کی طرح اپنے خصوصی مراکز بھی کھول لیے ہیں جہاں وہ شرعی تعویذ یا قرآن سے علاج کے نام پر پانی ، شہد اور تیل تیار کر کے فروخت کرتے ہیں۔

ان لوگوں نے اپنے لیے دور دراز ٹھکانے بنا رکھے ہیں جس کے نتیجے میں علاج کے خواہش مند افراد کو سفر اور تھکن کی مشقت کے علاوہ راستے کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان تمام امور کے باوجود یہ طریقہ علاج وسیع پیمانے پر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے اس لیے کہ مریضوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ کون کاروباری ہے اور کون صحیح تعویذ دینے والا۔

روحانی علاج کرنے والے عاملوں کے گھر تشدد کے مراکز بن گئے ہیں جہاں مریض کے جسم سے جن کو نکالنے کے نام پر لاٹھی اور چھڑی کے استعمال کے علاوہ بجلی کے جھٹکوں یا آگ سے جلانے کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔ مریض کا مرد یا عورت ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ مقصود جن ہوتا ہے جو بعض عاملوں کے مطابق ان پرتشدد طریقوں کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔ اس پرتشدد طریقہ کار کی کوئی منطق نہیں پائی جاتی ہے۔ اگر قرآنی آیات سے جن کو نہیں نکالا جا سکا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مریض کے جسم کو توڑنے والی لاٹھی مریض میں طویل عرصے سے بسے ہوئے جن کو نکال دے۔

بہت سے خاندان اپنے بیٹوں کے مرض کے نتیجے میں بڑے المیے کا سامنا کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو جہنم بنا لیتے ہیں۔ اس وجہ ان کے لیے روحانی علاج کرنے والا عامل ہی ایسا حل رہ جاتا ہے جس کی ہدایات تمام عزیز و اقارب کرتے ہیں۔ یہ لوگ کسی نفسیاتی طبیب سے رابطہ نہیں کرتے۔

اس موضوع پر بات کرنے کا مقصد تعویذ دینے والے صحیح روحانی شیوخ کی شان کو کم کرنا ، ان پر افتراء کرنا اور سب کو ایک ہی خانے میں رکھ دینا ہر گز نہیں ہے۔ بلا شبہ پرہیزگار اور اخلاص کے حامل عاملین بھی ہیں جو شریعت اور دین کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ان کا مقصد بنا کسی لالچ اور عوض کے مریضوں کا علاج کرنا ہوتا ہے۔

اب سوال یہ آتا ہے کہ ہم شرعی اصولوں کے مطابق تعویذ کرنے والوں اور دھوکے باز سفلی عاملوں کے درمیان فرق کیسے کریں جب کہ سب ہی ایک ذریعہ استعمال کرتے ہیں اور وہ ہے قرآن کریم۔

حقیقی تعویذ دینے والے اور جعلساز کے درمیان فرق کرنا مشکل نہیں ہے۔ آخر الذکر بیشتر اوقات اپنے دم کرنے کے عوض رقم کی ادائیگی مشروط کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مریض سے اس کے گھر سے چیزیں بھی منگواتا ہے مثلا مریض کے کپڑے وغیرہ۔ جہاں تک حقیقی تعویذ دینے والے شیخ کا تعلق ہے تو وہ صرف واضح طور پر محض قرآن پڑھنے اور اس کے بعد مریض پر پھونکنے اور دعا کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ وہ اس کے عوض کوئی مالی رقوم نہیں اینٹھتا ، اس کا عمل محض اللہ کی خاطر ہوتا ہے۔ اگر اس کو خود سے کچھ دے دیا جائے تو شکر ادا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دیا جائے تو بھی راضی رہتا ہے۔ تاہم اس بنیادی نقطے کے باوجود فریقین کے درمیان تفریق بہت سے عام لوگوں بالخصوص خواتین کے لیے مشکل ہی رہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں