مِلیے.. عربی زبان کی مُعلّمہ چینی لڑکی سے
ایک ایسے وقت میں جب کہ عربی زبان کے فرزندان غیر ملکی زبانوں کے آفاق میں گُم ہیں اور اپنی زبان میں مہارت حاصل کرنے میں دل چسپی کے حامل نظر نہیں آتے.. دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد نہ صرف عربی زبان کو بنیادی اصولوں کے ساتھ سیکھ رہے ہیں بلکہ خود عربوں کو اس زبان کی تعلیم دے رہے ہیں۔
سعودی عرب میں پیدا ہونے والی آیۃ سعید کا شمار بھی اسی طرح کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ آیہ کے نام سے لگتا ہے کہ وہ عرب ہیں تاہم ان کا تعلق چین سے ہے۔ وہ ان دنوں کویت میں عربی زبان کی تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔
عربی زبان سے آیہ کا عشق اپنے والد سے متاثر ہو کر شروع ہوا۔ ان کے والد نے مدینہ منورہ میں یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور وہاں سے میڈیا اور عربی زبان میں دین کی دعوت میں تخصص کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے۔ بعد ازاں وہ کویت منتقل ہو گئے اور وہاں چینی کمیونٹی کے لیے مترجم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
عربی زبان کی جانب کشش اور اس کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کے حوالے سے آیہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں والد کی تربیت ، قرآن سیکھنے اور اس کے معانی سمجھنے کی آیۃ کی اپنی خواہش کا بڑا عمل دخل ہے۔
آیۃ سعید نے العربیہ ٹی وی کے صبح کے شو میں پروگرام کے میزبانوں سےگفتگو کرتے ہوئے عربی زبان کے ساتھ اپنی کہانی اور اس کی تدریس کے تجربات کو بیان کیا۔
جوش و جذبے سے بھرپور آیۃ سعید نے عرب ممالک میں اپنے ساتھ پیش آںے والے ظرافت سے بھرپور چند واقعات بھی سنائے۔