ٹرمپ نے تہران سے جوہری پروگرام پر تحریری ضمانتوں کا مطالبہ کر دیا:امریکی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہونے کے دوران امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے بدھ کے روز امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایک ابتدائی معاہدے کے حصے کے طور پر جوہری پروگرام سے متعلق مخصوص رعایتیں اور وعدے تحریری شکل میں پیش کرے۔

امریکی حکام کے مطابق ایرانی مذاکرات کار ماضی میں زبانی یقین دہانیاں کراتے رہے ہیں کہ ایرانی نظام بالآخر جوہری پروگرام سے متعلق بعض شرائط قبول کر لے گا۔

تاہم حکام نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں کافی مضبوط اور قابلِ اعتماد نہیں تھیں، اسی لیے اب وہ ان وعدوں کو تحریری صورت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں منگل کے روز ہونے والی سماعتوں کے دوران وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کھول بھی دیتا ہے ،تو واشنگٹن اس کے بدلے میں پابندیاں نرم نہیں کرے گا۔

روبیو نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں آبنائے ہرمز سے متعلق نہیں بلکہ اس کے جوہری پروگرام کے باعث لگائی گئی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام جوہری پروگرام ترک کرنے کے موضوع پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب تازہ علاقائی پیش رفت میں کویت کی جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل T1 کو ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور ہوائی اڈے کی مختلف تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

کویتی سول ایوی ایشن کے بیان کے مطابق تمام پروازیں اگلے حکم تک معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ آنے اور جانے والی پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل کویتی فوج نے اعلان کیا تھا کہ دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ مختلف علاقوں میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے اور میزائلوں و ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔

دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ نے خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجانے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور مقیم غیرملکیوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

ادھر امریکی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف اہداف پر کیے گئے مسلسل حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور انہیں روک دیا۔

امریکی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے شہری بحری جہاز رانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تین ڈرونز کو بھی راستے میں تباہ کر دیا گیا، جب وہ علاقائی پانیوں سے گزر رہے تھے۔

امریکی فوج نے مزید بتایا کہ اس نے ایرانی حملوں کے جواب میں جزیرہ قشم میں واقع ایک فوجی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔ فوج کے مطابق یہ اقدام تہران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے ردِعمل میں اٹھایا گیا۔

سینٹکام نے ایران کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ''پانایا'' نامی ایک امریکی جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔

پاسداران کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے جزیرہ قشم کے جنوب میں واقع اس کے مواصلاتی ٹاور پر حملے کے جواب میں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں