"روس، بشار الاسد پر اپنا رسوخ کھو چکا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اقوام متحدہ کےفورم سے شام کا تنازع حل کرانے کی کوششوں میں مصروف اعلی اختیاراتی مذاکراتی کونسل اور عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی برائے شام نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی علاقوں درعا، مشرقی الغوطہ، دمشق کی برزہ، القابون اور تشرین نامی کالونیاں اور حمص شہر کی الوعر کالونی، حماہ، ادلب اور حلب میں شامی حکومت کے ہاتھوں ہونے والی تباہی پر بشار الاسد کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا جائے۔

یو این مذاکراتی کونسل کے مطابق شامی حکومت نے فائر بندی معاہدے اور نہ ہی آستانا مذاکرات میں طے پانے والی سفارشات کا کوئی احترام کیا ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ بشار الاسد حکومت پر روس اپنا رسوخ کھو چکا ہے۔

اپنے ایک بیان میں مذاکراتی کونسل نے شامی شہروں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی قانون ان اقدامات کو جنگی جرائم قرار دیتا ہے۔ چوتھی جنیوا کانفرنس سے پہلے بشار الاسد حکومت نے اپنے زیر نگین علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

دمشق کی القابون کالونی اور حرستا اور برزہ میں اپوزیشن فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں پر شامی فوج کی گولا باری کے بعد سیکڑوں خاندان علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دمشق کی القابون کالونی پر بشار الاسد فورسز کے حملے میں متعدد افراد کے ہلاک وزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں