.

’حضرت علی نے داعش کے ظہورکی پیش گوئی کی تھی‘

دین کے لبادے میں دہشت گرد اسلام کو بدنام کررہے ہیں:شوقی علام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے انکشاف کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے 1400 سال پہلے ’داعش‘ کے ظہور کی پیش گوئی کی تھی۔

اپنے ایک تازہ بیان میں مفتی اعظم شوقی علام نے کہا کہ چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چودہ سو سال پہلے ایک شدت پسند گروہ کی جو صفات بیان کیں وہی صفات ’داعش‘ میں پائی جاتی ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا تھا کہ ایک زمانے میں ایک ایسا گروپ ظہور پذیر ہوگا جس کا پرچم سیاہ رنگ کا ہوگا۔ اگر تم وہ زمانہ پاؤ تو زمین سے چمٹ جاؤ، اپنے ہاتھ اور پاؤں کو حرکت نہ دو، ان لوگوں کے دل لوہے کی طرح سخت ہوں گے،وہ حکومت بنائیں گے اور اپنی خلافت کا اعلان کریں گے۔ یہ لوگ کسی عہد وپیمان کی پابندی نہیں کریں گے۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر خود حق سے روگردانی کریں گے۔ وہ اپنے اصل ناموں کے بجائے کنیت سے پکارے جائیں گے اور اپنی نستیں آبائی علاقوں سے کریں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حق ظاہر کریں گے اور حق کو غلبہ عطا کیا جائے گا۔

مصر کے مفتی اعظم نے کہا کہ آج کے دور میں ہمیں مذہب اور وطن پربد ترین حملوں کا سامنا ہے۔ انتہا پسند اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو بدنام کررہے ہیں۔ اپنے جرائم کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی قرآن کو سمجھتے ہیں۔ وہ قرآن وحدیث کو اپنی مرضی کے معانی کا جامہ پہناتے ہیں اور مرضی کی تاویلیں کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شوقی علام نے انتہا پسندوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی شریعت کے بنیادی مقاصد میں انسان کا تحفظ سب سے مقدم ہے مگر انتہا پسندوں کے نزدیک انسان کی کوئی وقعت نہیں۔ وہ کھلے عام لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرتے ہیں۔

مفتی مصر نے گذشتہ ہفتے دو عیسائی گرجا گھروں پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ عبادت گاہوں پرحملوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرمذہب کی عبادت گاہ کے تحفظ کی تلقین فرمائی۔ مگر دہشت گرد نہ صرف دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ مساجد میں خون بہانے سے بھی باز نہیں آتے۔