.

کیا اسرائیلی ڈاکٹروں نے لاپتا یمنی بچوں پر غیر قانونی طبی تجربات کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے قیام کے کچھ عرصے کے بعد صہیونی ڈاکٹروں نے لاپتا ہونے والے یمنی بچوں پر غیر قانونی طبی تجربات کیے تھے۔اس بات کا انکشاف حال ہی میں اسرائیلی میڈیا نے بعض ڈاکٹروں کے بیانات پر مبنی رپورٹس میں کیا ہے۔اس انکشاف کے بعد اسرائیل کی لاپتا یمنی بچوں سے متعلق کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔

اسرائیلی ڈاکٹروں پر یہ الزامات بیس سال پرانے بیانات پر مبنی ہیں ۔اسرائیل کے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ گذشتہ بدھ کو پارلیمان (الکنیست ) کی یمن ،مشرق اور بلقان سے تعلق رکھنے والے لاپتا بچوں کے معاملے سے متعلق خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھی۔

یادرہے کہ مذکورہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار بچے اچانک اسرائیل میں لاپتا ہوگئے تھے ۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے الکنیست نے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا اور اس نے 1996-97ء میں ایک رپورٹ مرتب کی تھی۔اس دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ یمن سے آنے والے نئے تارکین وطن (بچوں) پر طبی تجربات کیے گئے تھے اور ان کے بارے میں ان کے خاندانوں کو کچھ پتا نہیں چل سکا تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔

اس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا جو بچے طبی تجربات کے دوران میں مر گئے تھے،ان کے والدین کی رضامندی کے بغیر ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔کمیٹی کی خاتون چئیرپرسن نوریت کورین نے کہا تھا کہ ’’ان بچوں کا تو تحفظ کیا جانا چاہیے تھا مگر اس کے بجائے انھیں غائب ہی کردیا گیا تھا‘‘۔

مس کورین نے یہ انکشاف بھی کیا تھا :’’ بعض بچے غائب کردیے گئے تھے اور ان کے والدین کو کبھی ان کی موت کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا ،بلکہ انھیں صرف یہ مطلع کیا گیا کہ ان کے بچے مرچکے ہیں۔انھوں نے جب لاشوں کا مطالبہ کیا تو انھیں کچھ بھی نہیں ملا تھا اور وہ ان کی تجہیز وتکفین بھی نہیں کرسکے تھے‘‘۔

جن بچوں پر طبی تجربات کیے گئے تھے،اس کمیٹی کو ان کی تصاویر بھی دکھائی گئی تھیں۔اسرائیلی روزنامے حایوم میں تین بالکل ننگے بچوں کی ایک تصویر شائع کی گئی ہے۔اس میں ان کے اندرونی جسمانی اعضاء پر نشانات لگے نظر آرہے ہیں۔ایک بچے کی تصویر میں عبرانی زبان میں لفظ ’’ سپلین‘‘ لکھا نظر آرہا ہے۔

مس کورین کا کہنا تھا کہ ’’ بادی النظر میں تو لگتا ہے۔ ان بچوں کے جسموں کو تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور ان پر تجربات کیے گئے تھے‘‘۔