سعودی عرب کا شہر جس کی عمر 4000 برس سے زیادہ
سعودی عرب کا آثاریاتی شہر الجہوہ جنوب کی سمت وادیِ نماص کے کنارے پر واقع ہے اور یہاں بنو بکر قبیلہ سکونت پذیر ہے۔ چوتھی صدی ہجری میں جزیرہ عرب کا عظیم ماہرِ جغرافیات ابو محمد الہمدانی اس نے اپنی کتاب "صفة جزيرۃ العرب" میں اس شہر کا ذکر کیا ہے۔ کتاب میں الہمدانی نے الجہوہ شہر کو ایک چھوٹی سلطنت کا مرکز قرار دیا۔ یہ 320 ہجری کے زمانے کی بات ہے۔ البتہ اس کی قدیم بنیادیں اور بڑے بڑے پتھروں سے بنی دیواروں اور باڑوں کی باقیات ابھی تک موجود ہیں۔
جہاں تک اس کے قدیم بازار "سوق الرس" کا تعلق ہے تو اس کے کوئی آثار باقی نہیں رہے۔ البتہ شہر کے اندر بعض تندوروں اور لوہے کی بھٹیوں کے آثار ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ الجہوہ کے لوگ قدیم زمانے میں کن پیشوں سے وابستہ تھے۔
یاد رہے کہ الجہوہ شہر اپنے تزویراتی محل وقوع کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے اطراف میں پہاڑ ہیں جب کہ یہاں کی مٹی بے حد زرخیز ہے۔
واضح رہے کہ مملکت کے قدیم ترین شہروں میں سے ہونے کے باوجود الجہوہ کو سیاحت کے حوالے سے وہ تاریخی مقام حاصل نہیں ہوا جس کا یہ شہر مستحق تھا۔ تاریخی ذرائع کے مطابق الجہوہ شہر 2300 برس قبل بَس چکا تھا۔
بعض رپورٹوں کے مطابق الجہوہ اس تاریخ سے بھی کافی عرصہ قبل آباد ہوا تھا۔ لبنانی مؤرخ کمال الصلیبی کا دعوی ہے کہ اس شہر کی عمر 4000 سال سے زیادہ ہے۔
-
داعش نے تدمر میں تاریخی مزارات مسمار کردیے
شام کے قدیم شہر کی تاریخی عمارات کے گرد بارودی سرنگیں بچھا دیں
مشرق وسطی -
شامی فوج کا حمص کے قدیم شہر پر تباہ کن فضائی حملہ اور گولہ باری
وسطی شہر میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری
مشرق وسطی -
موصل کے ’قدیم شہر‘ میں 500 عمارتیں مکمل تباہ، 5000 متاثر
اقوام متحدہ نے سیٹلائیٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی روشنی میں بتایا ہے کہ عراق کے ...
مشرق وسطی