عرب دنیا کی پہلی خاتون ریسلر شادیہ بسیسو کا ڈبلیو ڈبلیو ای سے معاہدہ
ان دنوں پیشہ ورانہ ریسلنگ محض ایک کھیل نہیں بلکہ یہ ایک نفع بخش تفریحی کاروبار بھی بن چکی ہے ۔دنیا بھر میں پیشہ ورانہ ریسلنگ کے مقابلوں میں حصے لینے پہلوان سے زیادہ فن کار ہوتے ہیں اور وہ شائقین کی تفریح طبع کا سامان کرتے ہیں ۔
اسی ہفتے دبئی سے تعلق رکھنے والی شادیہ بسیسو نے بھی ریسلنگ کی ایک بڑی کمپنی ورلڈ ریسلنگ انٹر ٹینر (ڈبلیو ڈبلیو ای) کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں اور وہ ڈبلیو ڈبلیو ای میں شامل ہونے والی پہلی عرب خاتون ریسلر ہیں۔
شادیہ بسیسو کا دبئی میں اسی سال منعقدہ آزمائشی مقابلوں کے بعد چالیس مردوں اور عورتوں میں سے انتخاب کیا گیا تھا۔وہ اردن میں پیدا ہوئی تھیں اور اب دبئی میں مقیم ہیں۔انھوں نے پہلے برازیلی مارشل آرٹ جیو جتسو کی تربیت حاصل کی تھی اور اس تربیت نے انھیں اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بسیسو کا ان کی ایتھلیٹک کی صلاحیتوں ، خوداعتمادی اور فطری کرشمے کی بنا پر ڈبلیو ڈبلیو ای کے لیے انتخاب کیا گیا تھا۔ وہ پہلے اس کمپنی کے ساتھ ٹی وی پیش کار کی حیثیت سے کام کرچکی ہیں اور انھیں اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کا موقع ملا تھا۔ وہ ورجین ریڈیو کے ساتھ میزبان کے طور پر کام کرتی رہی تھیں ۔اس کے علاوہ وہ دبئی میں ایس ڈی بی میڈیا کے نام سے اپنی بھی ایک کمپنی چلاتی رہی ہیں۔
انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ڈبلیو ڈبلیو ای کے ساتھ معاہدہ کرنے والی مشرقِ وسطیٰ کی پہلی عورت ہوں لیکن یہ ایک ذمے داری بھی ہے۔میں پرفارمنس مرکز میں گئی ہوں اور مے ینگ کلاسیک میں حصہ لیا ہے۔میں نے ذاتی طور پر ڈبلیو ڈبلیو ای کی قوت اور اس کے شائقین کا جوش وجذبہ دیکھا ہے۔میں اب اس کی سپراسٹار بننا چاہتی ہوں‘‘۔
شادیہ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں واقع ڈبلیو ڈبلیو ای کے اس پرفارمنس مرکز میں آیندہ جنوری سے اپنی تربیت کا آغاز کریں گی۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تربیتی مشقوں میں بھر پور طریقے سے حصہ لیں گی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور وہ ان کا سر فخر سے بلند کرنا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ اس کے کلچر کی بھی مقابلوں میں نمائندگی کریں گی اور عرب موسیقی کو متعارف کرائیں گی۔اس کے علاوہ وہ خطے کی نوجوان خواتین کے خوابوں کی تکمیل اور ارفع مقاصد کے حصول کے لیے بھی متاثر کن رہ نما شخصیت بننا چاہتی ہیں۔
-
چار عرب خواتین دنیا کی 100 بااثر شخصیات میں شامل
جرمن چانسلر اینجیلا مرکل بدستور فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں
ایڈیٹر کی پسند -
فوربز: عرب دنیا کی کامیاب کاروباری خواتین کی فہرست جاری
سالانہ جائزے میں مصر، سعودی عرب اور اماراتی خواتین نمایاں ترین
ایڈیٹر کی پسند -
زمانہ اسلام سے قبل شہرت پانے والی "حسن و جمال کا پیکر"عرب خواتین
آج کے دور میں ہم آئے دن دنیا بھر میں مقابلہ جات حُسن کا انعقاد دیکھتے ہیں.. ساتھ ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : "اوبر" کمپنی خواتین کو گاڑی چلانے کی تربیت دے گی
معروف عالمی کمپنی "اوبر" نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں اپنی کمپنی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : نکاح نامے میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کی شق کا اضافہ؟
سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد اب نکاح نامے میں ...
بين الاقوامى -
جدید سعودی عرب میں خواتین کی سرپرستی کا مسئلہ
گذشتہ دس روز کے دوران بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں۔فرانس میں قومی دن کے موقع پر ...
سیاست