سعودی عرب : "اوبر" کمپنی خواتین کو گاڑی چلانے کی تربیت دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

معروف عالمی کمپنی "اوبر" نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں اپنی کمپنی میں کام کرنے کی خواہش مند خواتین کو تربیت دینے کے لیے ایک خصوصی مرکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق مملکت میں "اوبر" ایپلی کیشن کو استعمال کرنے والے صارفین میں 80% خواتین ہیں۔

یورپ ، مشرق وسطی اور افریقہ میں اوبر کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے عربی اخبار الشرق الاوسط کو بتایا کہ ان کی کمپنی سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دیے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

سعودی عرب میں جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے باور کرایا ہے کہ اسمارٹ ٹرانسپورٹ ایپلی کیشن کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے سے متعلق کسی قسم کی ہدایات نہیں ہیں۔

الشرق الاوسط کے مطابق سعودی عرب میں جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر رمیح الرمیح کا کہنا ہے کہ " ہم سعودی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں"۔ انہوں نے باور کرایا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں خواتین کے آنے سے یہاں پر قائم اجارہ داری پر روک لگے گی۔ الرمیح کے مطابق سعودی اتھارٹی غیر ملکی خواتین ڈرائیوروں کو مملکت میں لانے کی اجازت نہیں دے گی۔

اوبر کمپنی نے منگل کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ مملکت میں تقریبا 1.4 لاکھ سعودی (ڈرائیور) کمپنی کے ساتھ شراکت داری میں کام کر رہے ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ سعودی شراکت داروں میں 65% جُز وقتی طور پر اوبر ایپلی کیشن کے ذریعے کام کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اوبر کمپنی 2014 سے سعودی عرب میں کام کر رہی ہے۔ اس وقت مملکت کے 18 شہروں میں اس کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں ریاض ، جدہ اور دمام شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں