.

قرآن میں مذکور تاریخ کا عظیم شہر اس مقام پر مدفون ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس کے باہر جِیا اور اس کے اندر مَرا.. جی ہاں پرانے وقتوں کے عرب سیانے یہ بات سعودی عرب کے مشہور صحراء الربع الخالی کے لیے کہا کرتے تھے جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا صحراء ہے۔ وہ مقام جہاں کے آثار تبدیلی سے دوچار رہتے ہیں اور اس صحراء میں آنے والے ریت کے طوفانوں کی بلندی بعض مرتبہ 450 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔

الربع الخالی میں رہبر کے بغیر داخل ہونا پرانے وقتوں سے یقینی موت شمار کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ریت میں پورا انسان گھٹنوں تک دھنس جاتا ہے اور پھر اس کا نکلنا نا ممکن بن جاتا ہے۔

یہاں مختلف نوعیت کے ریت کے ٹیلے موجود ہیں، ان میں بعض اپنی جگہ پر قائم اور بعض متحرک ہیں۔ الربع الخالی چار عرب ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ چار ممالک سعودی عرب، یمن، سلطنتِ عُمان اور امارات ہیں۔ اس کا سب سے بڑا حصّہ سعودی عرب کے اندر واقع ہے۔ صحراء کا مجموعی رقبہ 6 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الربع الخالی میں انسان نہیں رہتے ہیں جب کہ یہ بات غلط ہے۔ پرانے وقتوں سے لے کر آج تک بعض قبائل ہیں جو یہاں سکونت پذیر ہیں۔

دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی سعودی ارامکو میں سابق آئل ایڈوائزر ڈاکٹر عبدالعزیز لعبون کے مطابق الربع الخالی دنیا بھر میں تیل سے سب سے زیادہ مالا مال علاقوں میں سے ہے۔ یہاں ریت کے نیچے تیل کے عظیم ذخائر کا انکشاف ہوا۔

قرآن کریم کی سورہ فجر میں "ارم ذات العماد" کے نام سے ایک قدیم شہر کا ذکر آیا ہے۔ آثاریات کے بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ شہر الربع الخالی میں ہی ریت کے نیچے دفن ہے۔ یہ علاقہ اس عذاب کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں مذکورہ شہر زیر زمین چلا گیا۔

برطانوی انٹیلی جنس افسر فلبی ان شخصیات میں مشہور ترین ہے جنہوں نے الربع الخالی کے علاقے میں قرآن میں مذکور شہر کو تلاش کیا۔

الربع الخالی کو تاریخی تجارتی قافلوں کی گزر گاہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس صحراء کے اطراف میں بھی بعض تاریخی شہروں کا انکشاف ہوا تھا۔ بعض نے ان شہروں کو "ارم ذات العماد" سمجھ لیا تاہم جلد ہی اس نظریے سے رجوع کر لیا گیا۔

بہت سے فوٹوگرافروں اور کیمرہ مینوں کے نزدیک الربع الخالی ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک اہم مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انہوں نے ریت کے ٹیلوں کی تصاویر بنائیں اور روشنی اور سائے کے بیچ رہ کر اس نامعلوم مقام کو لوگوں کی آنکھوں تک پہنچایا۔

سعودی فوٹو گرافر "سياف دشن" ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے الربع الخالی کی بہت سے تصاویر لیں۔ سیاف تین برس سے شرورہ میں کام کر رہے ہیں۔ ریت کے بلند و بالا ٹیلوں ، نرم ریت ، اور ٹیلوں پر پڑنے والی سورج کی شعاؤں کے انعطاف کے مناظر نے بطور کیمرہ مین سیاف کا دل کھینچ لیا۔

عُمانی فوٹوگرافر "احمد الطوقی" نے بھی الربع الخالی کی بہت سی تصاویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کی ہیں۔