.

لوور میوزیم میں کعبہ کے 06 دروازوں کی ایمان افروز تاریخی داستان

لاکھوں عقیدت مندوں نے پیرس میں منعقدہ نمائش میں کلید وقفل کعبہ کی زیارت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں قائم 'لوور' عجائب گھرمیں حال ہی میں خانہ کعبہ کے ایک تاریخی قفل اور اس کی کلید زائرین کے سامنے نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ میوزیم کے اسلامی تہذیب ہال میں لگائی گئی نمائش کو بڑی تعداد میں زائرین نے دیکھا۔

خانہ کعبہ کے قفل اور اس کی کلیدوں کی تاریخ بہت طویل ہے۔ ہر مسلمان فرمانروا نے خانہ کعبہ کے دروازوں پر تالے لگانے اور ان کی چابیاں تیار کرانے کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھا۔ خانہ کعبہ کلید برداری کا اعزاز بنی شیبہ کے خاندان کو حاصل ہے اور صدیوں سے بنی شبہ ہی کلید کعبہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔

صرف کلید کعبہ یا اس کے دروازوں کے قفل ہی حکمرانوں کی توجہ کا مرکز نہیں رہے بلکہ کعبے کے ایک ایک حصے اور ایک ایک جز کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں‌ کلید کعبہ اور قفل کعبہ موجود ہیں۔ انہی میں‌ ایک قفل اور اس کی کلید پیرس کے لوور میوزیم میں بھی موجود ہے۔

اس کے علاوہ مصر میں قاہرہ کے تاریخی عجائب گھر میں بھی قفل اور کلید کعبہ موجود ہے۔ مصری ممالیک نے 800 سال تک اس ملک پر حکومت کی اور انہوں نے کلید اور قفل کعبہ کی ہر ممکن حفاظت کے ساتھ اس کی تبدیلی کرتے رہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آج سے پانچ ہزار سال قبل بیت اللہ کی بنیادیں کھڑی کیں اور اہل توحید کو اس کے طواف کی دعوت دی۔ اس وقت سے آج کے دن تک اور تا قیامت خانہ کعبہ کے دروازے، ان کے قفل اور کلیدیں مسلمانوں حکومتوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہیں گی۔

خانہ کعبہ کی تعمیر کے آغاز میں مقام مقدس کی چھت تھی اور نہ ہی کوئی دروازہ تھا بلکہ صرف دیواریں تھیں۔ مورخین کا کہنا ہے کہ پہلی بار بعثت نبوی سے کئی سال پیشتر 'تبع' پہلے بادشاہ تھے جنہوں‌نے خانہ کعبہ کا دروازہ لگایا، اس پر غلاف چڑھایا اور اپنی اولاد کو اس کی دیکھ بھال کی وصیت کی۔ انہوں خانہ کعبہ کو پاک صاف کیا۔ اس کا دروازہ بنایا اور ایک چابی بھی تیار کی گئی۔

'تبع' کا تیار کردہ باب کعبہ لکڑی سے بنایا گیا اور یہ پورے دور جاھلیت کے دوران موجود رہا۔ بعثت نبوی اور عہد اسلامی کے اتبدائی دور تک وہی دروازہ موجود تھا۔ اسے حضرت عبداللہ بن زبیر نے تبدیل کیا۔ انہوں نے 11 ہاتھ لمبا باب کعبہ تیار کیا جسے خانہ کعبہ میں نصب کیا گیا۔

باب کعبہ کی تبدیلی

مورخین کا کہنا ہے کہ باب کعبہ طویل عرصے بعد 64ھ میں عبداللہ بن زبیر کے دور میں تبدیل کیا گیا۔ تاہم حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر والا باب کعبہ تبدیل کر کے دوبارہ 6 ہاتھ والا دروازہ لگایا۔ اس کے بعد 1045ھ میں باب کعبہ دوبارہ تبدیل کیا گیا۔ اس پر چاندی کی قلعی کی گئی اور 200 رتل سونا چڑھایا گیا۔ خانہ کعبہ کا یہ پہلا باب تھا جس ملمع کاری کی گئی۔ یہ مراد چہارم کے دور کا واقعہ ہے۔ ان کا تیار کردہ دروازہ 1356ھ تک قائم رہا۔

باب کعبہ، دنیا جس کا طواف کرتی ہے

ابواب کعبہ زمین پر موجود کسی عمارت کے سب سے پرانے دروازے ہیں۔ خانہ کعبہ کے پرانے دروازے آج بھی سعودی عرب کے قومی ثقافتی ورثے میں محفوظ ہیں اور سعودی عرب کی شان دار تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ آج بھی خانہ کعبہ کے ان دیرینہ دروازوں کا دنیا طواف کرتی ہے۔

حال ہی میں ابو ظہبی میں 'لوور' میوزم میں دیگر تاریخی اور نادر و نایاب اشیاء کے ساتھ باب کعبہ بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ باب کعبہ 1045ھ کا ہے اور اسے ابواب کعبہ کے تسلسل میں چوتھا باب کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل حجاج بن یوسف، عبداللہ بن زبیر اور تبع کے ابواب گذر چکے ہیں۔

اس دروازے کے دو پاٹ ہیں جن پر تاریخی فن تعمیر کے نقش ونگار بنائے گئے ہیں۔ اس کی تیاری میں دھاتی پلیٹوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ باب کعبہ بھی اپنے معیار میں اعلیٰ ترین ہے یہ دروازہ خانہ کعبہ کی مشرقی دیوار پر مسلسل 300 سال تک حجاج و معتمرین کا استقبال کرتا رہا۔

عہد سعود کے دروازے

تین صدیوں کے بعد سعودی سلطنت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1363ھ کو خاص طورپر ایک نیا باب کعبہ تیار کیا۔ نیا دروازہ اس لیے بھی تیار کیا گیا کیونکہ پرانا باب کعبہ طویل عرصہ بیت جانے کی بناء پر کم زور ہو گیا تھا۔ شاہ عبدالعزیز کے حکم پر خانہ کعبہ کے لیے نیا دروازہ تین سال کی محنت سے تیار کیا گیا۔ اس کی بنیاد فولاد سے بنائی گئی۔ اس پر دو پٹ پر مشتمل لکڑی سے تیار کردہ دروازے پر سونے اور چاندی کی ملمع کاری کی گئی۔

موجودہ باب کعبہ

خانہ کعبہ کا موجودہ دروازہ احمد بن ابراہیم بدر کے ہاتھوں سے تیار کرددہ ہے۔ یہ دروازہ شاہ خالد بن عبدالعزیز کے حکم پر تیار کیا گیا۔ اس پر 280 کلو گرام سونا لگایا گیا۔ اس کی تیاری میں 10 لاکھ 43 ہزار 20 ریال خرچ ہوئے جب کی سونا اس کے علاوہ ہے۔ اس کی تیاری میں مسلسل 12 ماہ لگے اور اسے 1398ھ میں خانہ کعبہ کی زینت بنایا گیا۔