ہالینڈ میں نامعقول پوسٹ مین نے ہزاروں خطوط کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ہالینڈ میں پولیس کو وسطی شہر لارن کے قریب ایک جنگل کے اندر سے ہزاروں خطوط اور پارسل ملے ہیں جو ایک پوسٹ مین نے زمین کے اندر دفن کر دیے تھے۔ ذمے دار پوسٹ مین کی شناخت ہو گئی ہے۔

پولیس کو یہ انکشاف بدھ کے روز اُس وقت ہوا جب مذکورہ جنگل سے گزرنے والے ایک راہ گیر نے ایک جگہ ریت کا ٹیلہ اور اس کے ساتھ بیلچے کا کچھ حصہ دیکھا۔ راہ گیر نے اس کی اطلاع پولیس کو دے دی۔

پولیس نے کھدائی کروائی تو ایک میٹر گہرے 8 گڑھوں سے خطوط کی بھاری تعداد برآمد ہوئی۔

متعلقہ پوسٹ مین SANDD پوسٹل کمپنی کے لیے کام کرتا ہے۔ کمپنی کی ترجمان نے واضح کیا کہ مٹی کے نیچے دفنائے گئے پارسلز میں زیادہ تعداد بلوں، جریدوں اور اشتہاری خطوط کی ہے"۔

اس خطوط اور پارسلوں کے انکشاف کے دو روز بعد مذکورہ پوسٹل کمپنی نے اعلان کیا کہ اس حرکت کے ذمے دار کی شناخت کر لی گئی ہے۔ وہ ایک پوسٹ مین ہے تاہم حفاظت کے پیش نظر اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ "افسوس ... اس شخص نے کام کے حوالے سے ہماری اخلاقیات کا احترام نہیں کیا۔ ہم اس کے خلاف مطلوبہ اقدامات کریں گے"۔

کئی ہفتوں کی تاخیر کے باوجود جو خطوط اور پارسل ابھی تک اچھی حالت میں ہیں ان کو متعین مقامات پر ارسال کیا جائے گا۔ جہاں تک بڑے پیمانے پر خراب ہو جانے والے خطوط کا تعلق ہے تو یہ جن اطراف کو بھیجے گئے تھے، ان کی مشاورت انہیں تلف کر دیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق یہ خطوط اور پارسل کئی ہفتوں تک جنگل میں زمین کے نیچے رہے۔ اس وجہ سے یہ گیلے اور گندے ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں