.

اسرائیلی خاتون جس کے آگے سپر پاور کا صدر جھکنے پر مجبور ہو گیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی سپر پاور سمجھی جانے والی ریاست کے صدر جو بائیڈن کی ایک حالیہ تصویر نے سوشل میڈیا اور ذرئع ابلاغ میں بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تصویر میں بائیڈن وائٹ ہاؤس کے اندر ہیئر سیلون میں ایک اسرائیلی خاتون کے سامنے جھکے نظر آ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 45 سالہ اسرائیلی خاتونRivka Ravitz کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ مذکورہ تصویر گذشتہ ماہ 27 جون کو لی گئی۔ اس روز ریوکا ریوٹز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی صدر رووین ریولن کے ہمراہ نظر آئیں۔ وہ رویولن کے دفتر کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اسرائیلی صدر نے بائیڈن سے ریوکا کا تعارف کرایا۔

ریوکا ریوٹز نے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کی۔ وہ امریکی نژاد ہیں اور اپنے امریکی والدین کے ساتھ اسرائیل ہجرت کر گئی تھیں۔ ریوکا 1998ء میں رووین ریولن کے اسرائیلی پارلیمنٹ کی نشست جیتنے کے ایک سال بعد ان کے دفتر کی ڈائریکٹر مقرر کی گئیں۔ ریوکا اپنے ساتھ گھر میں مقیم 13 افراد کے امور کی ذمے دار ہیں۔ ان میں ریوکا کا شوہر اسحاق راویتز شامل ہے۔ وہ مقبوضہ بیت المقدس کا سابق نائب میئر رہ چکا ہے۔

ریوکا کے 5 بیڈ روم والے گھر میں ان کے 12 بچے بھی رہتے ہیں۔ ان کے پہلے بچے کی پیدائش 1994ء میں (18 برس کی عمر میں) اور آخری بچے کی پیدائش 2019ء میں (43 برس کی عمر میں) ہوئی۔

امریکی صدر نے احتراما خود کو ریوکا کے آگے جھکا کر پیش کیا۔

جو بائیڈن پہلی شخصیت نہیں جنہوں نے ریوکا کو پیشہ وارانہ ذمے داریوں کے ساتھ 12 بچوں کی پرورش نبھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ اس سے قبل کئی مشہور شخصیات ریوکا کے سامنے احتراما جھک چکے ہیں۔ ان میں پوپ فرانسس اول شامل ہیں۔ پوپ نے 2015ء میں ویٹی کن میں ایک لیکچر کے موقع پر اسرائیلی صدر کا استقبال کیا تھا۔ اس موقع پر صدر کے دفتر کی ڈائریکٹر رویکا بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ پوپ کو جب یہ علم ہوا کہ ریوکا بن کسی معاون کے اپنے 12 بچوں کی تنہا پروش کر رہی ہیں اور ساتھ ہی گھریلو اخراجات میں اپنے شوہر کی مدد کرتی ہیں تو پوپ نے بھی جو بائیڈن کی طرح جھک کر اسرائیلی خاتون کو خراج تحسین پیش کیا