.

سعودی عرب:غار سے انسانوں اورجانوروں کی ہزاروں ہڈیاں دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک غار سے سائنس دانوں نے انسانوں اور جانوروں کی ہزاروں باقیات دریافت کی ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دھاری دار لگڑبھگے انھیں گذشتہ سات ہزار سال کے دوران میں جمع کرتے رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے اپنے شائع شدہ مطالعہ میں لکھا ہے کہ ہزاروں ہڈیاں اُم جرسان میں واقع ڈیڑھ کلومیٹر طویل سرنگ سے دریافت ہوئی ہیں۔اس میں ہڈیوں کو ’’بڑی خوب صورتی سے محفوظ ‘‘کیا گیا تھا۔یہ سرنگ سعودی مملکت میں حرات کیبار لاوا فیلڈ میں واقع ہے۔

دریافت شدہ باقیات میں مویشیوں، گھوڑے، اونٹ، چوہوں اور یہاں تک کہ انسانوں کی ہڈیاں بھی شامل ہیں۔

سائنسدان اسٹیوی اسٹیوارٹ نے ایک ٹویٹرتھریڈ میں لکھا ہے کہ’’ ہزاروں سال کے دوران میں ہڈیوں کے جمع ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاوا ٹیوب ’’ہڈیوں کے تحفظ کے لیے بہترین ماحول‘‘ مہیّا کرتی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک ایسے خطے میں جہاں ہڈیوں کا تحفظ بہت ہی ناقص ہے، اُم جرسان ایسی جگہیں تحقیق کے لیے ایک نیا دلچسپ ذریعہ اور موضوع پیش کرتی ہیں۔‘‘

سائنسدانوں نے اس تحقیق میں دریافت شدہ باقیات، ہڈیوں کی اقسام،ان کے تعدد اور مقامات کے مطالعے کی بنیاد پریہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انھیں گوشت خور لگڑبھگوں نے یہاں منتقل کیا تھا۔

اسٹیوارٹ مزید لکھتے ہیں:’’یہ جانور ہڈیوں کو جمع کرنے کا شوقین ہوتا ہے،وہ انھیں دوردراز جگہوں سے لاکرغاروں میں جمع کرتا رہتا ہے تاکہ انھیں بعد میں استعمال میں لاسکے اور نوعمرلگڑبھگوں کو خوراک کے طور پر دے سکے یا انھیں ذخیرہ کرسکے۔‘‘

سائنس دانوں نے اس تحقیق میں اصل تولگڑبھگے کی عادات وخصائل پرتوجہ مرکوزکی ہے، لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے شائع شدہ مضمون میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ ’’گدھے ہزاروں سال سے اس خطے میں ایک اہم مویشی کے طور پر موجودہیں۔‘‘


اُم جرسان (اور خطے میں اس جیسی دیگر جگہیں) ہولوسین عرب کے حیاتیاتی تنوع اور ماحول کے بارے میں قابل قدر ادراک فراہم کرتی ہیں۔ اسٹیوارٹ کا کہنا ہے کہ ’’یہ مطالعہ توبرفانی تودے کی صرف ایک نوک ہے۔‘‘

دھاری دار لگڑبھگا۔ فائل تصویر
دھاری دار لگڑبھگا۔ فائل تصویر