شام میں بچّوں کے اسپتال پرمسلح افراد کا حملہ، نوزائیدہ بچّی کو بچا لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے شمالی علاقے عفرین میں مسلح افراد نے ایک اسپتال پر دھاوا بول دیا جہاں زلزلے سے تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے پیدا ہونے والی ایک بچّی کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔مسلح افراد نے اس اسپتال کے ڈائریکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک شامی عہدہ دار نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیرکی رات حملے میں اس بچّی کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس نوزائیدہ بچی کا نام آیہ (اللہ کی نشانی) رکھاگیا ہے۔ وہ 6 فروری کو زلزلے کے کئی گھنٹے کے بعد ملبے سے نکالی گئی تھی اور تب سے اسپتال میں ہے۔ ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے میں اس کی والدہ، والد اور چار بہن بھائی جاں بحق ہوگئے تھے۔

آیہ کو اس کی پیدائش کے بعد سے ہی قریب سے دیکھا جارہا ہے اوردنیا بھرسے لوگ اس کی دیکھ بھال کرنے کی پیش کش کررہے ہیں۔اس وقت اسپتال کے ڈائریکٹرکی اہلیہ اس کو اپنا دودھ پلا رہی ہیں۔

ایک عہدہ دارنے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اسپتال کے ڈائریکٹر کو شک تھا کہ ایک نرس اسے اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھی اوراسے اسپتال سے باہر نکال دیا گیا تھا۔اس نرس نے اس بچّی کی تصاویر بھی لی تھیں۔

یہ نرس چند گھنٹے کے بعد مسلح افراد کے ساتھ لے کر واپس آئی اورانھوں نے ڈائریکٹر کی پٹائی کردی۔اسپتال پہنچنے پر مسلح افراد نے اس بچّی کی حفاظت پرمامورمقامی پولیس افسروں کوبتایا کہ وہ اپنے دوست پرفائرنگ کرنے پر ڈائریکٹر کے پیچھے جا رہے ہیں۔ اوروہ آیہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

کئی لوگوں نے خود کوآیہ کا رشتہ دار ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا،جس کی وجہ سے مقامی پولیس اہلکاروں اس کے تحفظ کے لیے مامور کیا گیا ہے۔

بچی کے والد کے چچا صالح البدران کے مطابق آیہ کو منگل یا بدھ کواسپتال سے چھٹی مل سکتی ہے۔اب اس کی پھوپھی اس کی پرورش کریں گی۔وہ تباہ کن زلزلے میں بچ گئی تھیں اورانھوں نے خودحال ہی میں ایک بچّے کو جنم دیاتھا۔

شام کے شمال میں واقع قصبے جندریس میں امدادی کارکنوں نے زلزلے کے 10 گھنٹے کے بعدسیاہ بالوں والی بچی کواس وقت دریافت کیا جب وہ پانچ منزلہ اپارٹمنٹ عمارت کے ملبے کی کھدائی کررہے تھے۔اسی عمارت میں اس کے والدین رہتے تھے۔

کنکریٹ کے نیچے دبی یہ بچی اپنی نالی سے والدہ افراء ابوہادیہ سے جڑی ہوئی تھی۔ بچی کو فوری طور پرنزدیک واقع قصبے عفرین کے اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کے بعد سےاس کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

تباہ کن زلزلے نے جندریس میں دسیوں رہائشی مکانات اوراپارٹمنٹ عمارتوں کو یونٹوں کو تباہ کر دیا ہے، جہاں آیہ کا خاندان 2018 سے رہ رہا تھا۔صالح البدران نے بتایا کہ آیہ کے والد عبداللہ ترکی ملیحان کا تعلق مشرقی صوبہ دیرالزور کے گاؤں خشم سے تھا لیکن 2014 میں داعش کے ان کے گاؤں پر قبضے کے بعد وہ وہاں سے اٹھ آئے تھے اور شمالی شام منتقل ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size