سعودی عرب: خواتین سواروں نے گھوڑوں کو رقص کرایا، نیزہ بازی کا بھی مظاہرہ

بقیق فیسٹول کے پانچویں ایڈیشن میں گھڑ سوار خواتین نے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے کر خود کو ثابت کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں بقیق فیسٹول کے پانچویں ایڈیشن میں گھڑ سوار سعودی خواتین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بقیق سفاری میں گھڑ سوار خواتین نے آہنی عزم کے ساتھ ’’ہارس شو ‘‘ پیش کیا اور دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کرلی۔ فیسٹول میں آئے افراد نے دلیر خواتین کو خوب داد دی۔ان خواتین نے اپنے گھوڑوں کو رقص کرایا تو دیکھنے والے سحر زدہ ہوگئے۔ خواتین نے نیزہ بازی کی، کمان اور تلوار کی پرفارمنس کی۔ اپنی پیٹھ سے کھونٹی اٹھانے کا شو پیش کیا ۔ گھوڑوں کی چھلانگ لگوانے میں بھی حصہ لیا۔

سعودی عرب میں گھوڑوں کے شعبے میں سعودی خواتین کو بااختیار بنانا صرف گھوڑوں کی سواری اور شوز کرنے تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ بعض سعودی خواتین نے اس سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی کورسز بھی کیے اور اس شعبہ میں اپنی تربیت کو عروج پر پہنچا دیا۔

پہلی سعودی خاتون گھڑ سوار اور مملکت میں ہارس بیک شوٹنگ کی پہلی سند یافتہ ٹرینر نورہ عبداللہ الجبر ہیں۔ جنہیں وزارت کھیل اور سعودی گھڑ سواری فیڈریشن سے تربیت کے شعبہ میں کام کرنے کا اجازت نامہ بھی حاصل ہے۔گھڑ سوار خواتین"نورۃ " کہتی ہیں ’’ میں گھوڑے کی پیٹھ پر ایک سرٹیفائیڈ نیزہ اور تلوار چلانے والی ٹرینر ہوں، میں نے اس سے قبل متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔ میں اردن چیمپئن شپ میں مملکت کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون سوار تھی۔ میں نے اس چیمپئن شپ میں اعلی اعزاز حاصل کیا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر تیر اندازی کے ساتھ ساتھ میں نے ترکی میں دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی۔

المعجمعہ گورنریٹ میں پہلی گھڑ سوار اور سواری کی بنیادی باتوں کی تربیت دینے والی 28 سال کی ’’ ھادی عبد اللہ علی العضیب ‘‘ نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ میرا شوق گھوڑا رقص ہے۔ ۔ میں نے اسے چھ سال قبل شروع کیا تھا۔ میں گھڑ رقص کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ ھادی العضیب نے مزید کہا کہ میں اپنے شوہر اور اپنے پہلے حامی ولید السادی کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو میرے ساتھ کھڑے رہے۔ انہیں کے تعاون سے آج میں اس مقام تک پہنچی ہوں۔ انہوں نے کہا م یں ’’ المجید سنٹر‘‘ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں۔ نائٹ فواد الجعروری کی انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے گھوڑوں کو رقص کرانا سکھایا۔

ایک اور خاتون گھڑ سوار شروق محمد الحویطی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا میں 12 برس کی عمر سے ہی گھوڑے سے محبت کرتی تھی۔ میں تبوک سے ہوں۔ اب میری عمر 22 برس ہے۔ میں نے کنگ عبد العزیز فیسٹول اور دیگر میلوں میں گھڑ سواری کے مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔

القصیم کی 27 سالہ خاتون گھڑ سوار ’’ الجوزا‘‘ نے بتایا میں بین الاقوامی ٹرینر اور نیزہ پلیئر کے طور پر کام کر رہی ہوں۔ میں نے تین سال قبل گھڑ سواری کرنے والی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بقیق سفاری فیسٹیول میں یہ میری مسلسل تیسری شرکت ہے۔

52

خاتون خلود عبداللہ الشمری جن کی عمر 27 سال ہے بھی گھڑ سوار ہیں۔ انہوں نے بتایا مجھے گھڑ سواری کا شوق میری والدہ اور والد نے ڈالا۔ انہوں نے مجھے اس شوق پر عمل کرنے کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ میر ے والدین مجھے ایسے علاقوں میں لے جاتے تھے جہاں گھوڑے ہوتے تھے۔

تبوک سے تعلق رکھنے والی خاتون گھڑ سوار اور ٹرینر رغد العنزی کی عمر 21 سال ہے ۔ انہوں نے بتایا میں ترکیہ کے ایک علاقے میں تھی ۔ ہم نے وہاں ہارس شو دیکھا اور یہاں سے مجھے گھڑ سواری کرنے اور اسے سیکھنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ گھڑ سواری سیکھنے میں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں