نیتن یاہوکی مجوزہ عدالتی اصلاحات نےاسرائیل میں بڑے پیمانے پربے چینی کوکیسےجنم دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی متعارف کردہ مجوزہ عدالتی اصلاحات نے اسرائیل میں گذشتہ کئی دہائیوں میں سب سے شدید سماجی بے چینی کو جنم دیا ہے۔

اس مجوزہ منصوبے کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کراحتجاج کررہے ہیں،ان میں اتوار کی شب ملک بھر میں بڑے پیمانے پرمظاہرے بھی شامل ہیں۔نیتن یاہو نے اسی روز اپنے وزیردفاع کواس مجوزہ منصوبے پرسوال اٹھانے پر برطرف کردیا تھا۔اس اقدام کے ردعمل میں پیر کو مظاہروں میں شدت آئی ہے۔

اسرائیل کی سب سے بڑی ٹریڈیونین نے ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو مفلوج کرنے کے لیے عام ہڑتال کا اعلان کیا اور ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے باہر جمع ہو کر احتجاج کررہے ہیں۔اس یونین میں کاروباری رہ نما، بینک سربراہان، لڑاکا پائلٹ، اضافی فوجی دستے، ماہرینِ تعلیم، سابق سکیورٹی کمانڈرز اور معاشرے کے دیگر بااثر طبقات شامل ہیں۔ وہ عدالتی اصلاحات کے اس منصوبے کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے سراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں۔

یہاں اس تمام معاملے پر ایک نظرڈالتے ہیں کہ کس طرح اسرائیل دہائیوں میں اپنے سب سے سنگین داخلی بحران کا شکارہوگیا ہے۔

صورت حال یہاں کیسے پہنچی؟

نیتن یاہو کے خلاف تین مختلف مقدمات زیرسماعت ہیں۔ان میں ایک بدعنوانی کا مقدمہ شامل ہے، وہ 2019 ء سے ملک میں سیاسی افراتفری کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ان پرفردِ جُرم عاید کیے جانے کے بعد ان کے سابق حکومتی اتحادی حملہ آور ہوگئے اور وہ ایک مستحکم اور دیرپااتحاد تشکیل دینے سے قاصررہے۔اس کے نتیجے میں ایک طویل سیاسی بحران پیدا ہوا جس نے اسرائیلیوں کو چارسال سے بھی کم عرصے میں پانچ مرتبہ انتخابات میں جھونک دیا ہے۔

حزب اختلاف کے رہ نما کی حیثیت سے 18 ماہ کی ’’سیاسی تنہائی‘‘ کے بعد، نیتن یاہو نے گذشتہ سال کے آخر میں الٹرا آرتھوڈکس اور الٹراقوم پرست اتحادیوں کے ساتھ مل کراب تک کی سب سے انتہاپسند دائیں بازو کی حکومت تشکیل دی۔

عدالتی اصلاحات کا مطمح نظر؟

اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی اہم شخصیات نے اپنے حکومتی شراکت داروں کے ساتھ مل کرملک کے عدالتی نظام کو تیزی سے تبدیل کرنے کا عہد کیا تھا،جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مہم عدالتی نگرانی کے ساتھ اپنے نظریاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی خواہش کی آئینہ دار ہے۔ ان تبدیلیوں سے حکومتی اتحاد کو عدالتوں میں تقررپر کنٹرول حاصل جائے گا اور پارلیمان کو اپنے فیصلوں کو تبدیل کرنے اور قوانین کے عدالتی جائزے کو محدود کرنے کا اختیاربھی مل جائے گا جس سے ملک کی سپریم کورٹ کمزور ہوگی۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ملک کے چیک اوربیلنس کے نازک نظام کو ختم کر دیا جائے گا اور نیتن یاہو کے زیرقیادت حکمراں اتحاد کو آزاد عدلیہ پر کنٹرول مل جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیتن یاہو اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران میں قانونی نظام کو نئی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں اور اس میں مفادات کا گہرا ٹکراؤ ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مداخلت پسند عدلیہ کے سامنے حکمرانی کو ہموار کرنے کے لیے قانونی تبدیلیاں ناگزیرہیں۔

تازہ مظاہروں کامحرک؟

نیتن یاہو کے قریبی ساتھی وزیرانصاف یاریو لیون نے جنوری میں عدالتی اصلاحات کے اس منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے اسرائیل کوقریباً تین ماہ سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سامنا ہے۔

لیکن وزیر دفاع یواف گیلنٹ کی برطرفی پر غیظ وغضب کا اظہار حیران کن تھا۔اسے پیغام رسانی وَٹس ایپ کے ذریعے بڑے پیمانے پر منظم کیا گیا تھا۔ قریباً ایک گھنٹے میں ہزاروں افراد نے تل ابیب کی مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا اور ہزاروں افراد نے نیتن یاہو کے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں واقع گھر کے باہر مظاہرہ کیا۔

گیلنٹ نیتن یاہو کی کابینہ کے پہلے وزیر تھے جنھوں نے عہدکو توڑا اور عوامی طور پر اصلاحات میں تاخیر کا مطالبہ کیا۔ حوصلے پست ہونے اور فوجیوں کی جانب سے ڈیوٹی پر نہ آنے کی دھمکیوں کے بعد گیلنٹ نے کہا کہ اس منصوبے پرآگے بڑھنے سے اسرائیل کی فوجی تیاریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سکیورٹی کے جنون میں مبتلا اسرائیل میں ریٹائرڈ جنرل گیلنٹ نئی کابینہ کے سب سے معزز ارکان میں سے ایک ہیں۔قومی سلامتی کے ذمہ دار شخص پر حملہ کر کے نیتن یاہو نے شاید ایک سرخ لکیرعبور کر لی ہو اور نادانستہ طور پر قومی سلامتی کو چھو کر اس گہرے تقسیم شدہ ملک کو متحد کردیا ہو۔

عام ہڑتال کی کیا اہمیت ہے؟

اسرائیل کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ملک کے سب سے طاقتور اداروں میں سے ایک ہے، جو صحت کی دیکھ بھال، بینکاری، سرکاری خدمات، ڈے کیئر اور نقل و حمل سمیت مختلف شعبوں میں قریباً 800،000 افراد کی نمائندگی کرتی ہے۔

اگرچہ یونین نے گذشتہ برسوں میں مزدوروں کے تنازعات میں معیشت کے کچھ حصوں کو مفلوج کر دیا ہے ، لیکن اس سے پہلے اس نے کبھی کسی سیاسی معاملے کے خلاف ہڑتال نہیں کی ہے۔یہ فیصلہ قریباً فوری طور پر محسوس کیا گیا تھا۔اسرائیل کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں 70 ہزار سے زیادہ مسافر پھنس گئے ہیں۔ ڈاکٹروں اور ڈے کیئر ورکرز نے کہا کہ وہ پیشہ ورانہ کام سے دور رہیں گے، اور توقع ہے کہ دیگر بھی اس میں شامل ہوں گے۔

حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کی کرنسی شیکل کی قدر میں کمی کے ساتھ معیشت پہلے ہی مظاہروں سے متاثر ہوئی ہے۔ ایک طویل ہڑتال کا مطلب طویل مدتی اور گہرا نقصان ہوسکتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

قوم سے خطاب کا وعدہ کرنے کے چند گھنٹےبعد بھی نیتن یاہو مشیروں اور اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں مصروف رہے۔

اسرائیلی میڈیا نے نیتن یاہو کی لیکوڈپارٹی کے نامعلوم عہدے داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ توقع ہے کہ وہ اپنے منصوبے میں تاخیر کریں گے۔ وزیرانصاف لیون نے، جنھوں نے پارلیمنٹ کے ذریعے اس منصوبہ کو جلد بازی میں پیش کرنے کی کوششوں کی قیادت کی ہے،کہا کہ اگر نیتن یاہو تاخیر کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ ان کی خواہشات کا احترام کریں گے۔

نیتن یاہو نے قوم سے خطاب میں اس منصوبہ کو اپریل کے دوسرے پندرھواڑے میں پارلیمان کے آیندہ اجلاس تک مؤخرکرنے کا اعلان کیا ہے۔اس طرح اس وقفے سے تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور خود نیتن یاہو کو سمجھوتاکرنے کے لیے کچھ وقت ملے گا۔ لیکن اگر وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں تواس طرح وہ اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لیں گے جس سے ممکنہ طور پر ان کی حکومت کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور نئے انتخابات کاامکان پیدا ہوسکتا ہے۔

کسی بھی نئے انتخابات میں ایک بار پھر نیتن یاہو کی حکومت کرنے کی اہلیت پر توجہ مرکوز کی جائے گی جبکہ انھیں سنگین قانونی مسائل کا سامنا ہے۔

اسرائیل سے باہر اس کا کیا اثرہو سکتا ہے؟

اگرچہ یہ لڑائی اسرائیل کا اندرونی معاملہ لگتا ہے، لیکن اس کے نتیجے کے خطے اوراس سے باہر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نیتن یاہو کے اتحادیوں میں مذہبی اور قوم پرست قدامت پسندوں کا غلبہ ہے جو فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی تحریک سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ ایک کمزورعدالتی نظام زیادہ جارحانہ بستیوں کی تعمیر اور یہاں تک کہ مغربی کنارے کی زمینوں کے الحاق کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ اس سے فلسطینیوں کے ساتھ مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے، جو اسرائیل کے زیرقبضہ مغربی کنارے کو مستقبل کی ایک آزاد ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، اور ساتھ ہی اسرائیل کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ بھی، جنھوں نے اس تبدیلی کے بارے میں تشویش کا اظہارکیا ہے اور ان کے کچھ شراکت داروں کے تبصروں کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔

اسرائیلی فوجیوں کو ہیگ میں جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اسرائیل کے اہم دفاع میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے پاس ایک آزاد عدلیہ ہے جو فوجیوں کی طرف سے غلط کاموں کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک کمزور عدلیہ اسرائیل کو اس دفاع سے محروم کر سکتی ہے۔

اس سے اسرائیل کی ہائی ٹیک انڈسٹری، جو ملک کی معیشت کا انجن ہے، بھی متاثرہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی ادارے پہلے ہی کَہ چکے ہیں کہ اگر یہ تبدیلی عمل میں آتی ہے تو وہ اسرائیل کے قرضوں کی درجہ بندی کو کم کر سکتے ہیں کیونکہ ایجنسیاں ایک مضبوط عدلیہ کو اچھے کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھتی ہیں۔کم درجہ بندی سرمایہ کاروں کی اسرائیل میں کاروبار کرنے میں ہچکچاہٹ کا باعث بن سکتی ہے اور ممکنہ طور پراسرائیل میں کام کرنے والی کمپنیوں کے اپنے کاروبار ٹھپ کرنے کی راہ بھی ہموارکرسکتی ہیں۔ان میں دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں