رمضان کی 27 ویں شب کی مناسبت سے حرمین شریفین میں تیاریاں مکمل ہیں: شیخ السدیس

12 ہزار ملازمین خدمات فراہم کریں گے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آپریشنل منصوبہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حرمین شریفین میں رمضان المبارک کی 27 ویں شب کے حوالے سے تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ ادارہ ’’صدارت عامہ برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی‘‘ نے دونوں مقدس مساجد میں زائرین کی بڑی تعداد کے تناظر میں تمام شعبوں میں تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ ادارہ کا فیلڈ سسٹم، ہجوم کے انتظام کا شعبہ اور حفاظتی نظام بہتر کردیا گیا ہے۔

زائرین اور نمازیوں کی خدمت سے متعلقہ حکام شہد کی مکھیوں کے چھتے میں تبدیل ہو گئے ہیں اور میدان میں مسلسل نقل و حرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔ آج پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان کی طرح سعودی عرب میں رمضان کی 27 ویں شب ہے۔ اس شب کو مسلمانان امت شب بیداری کرتے اور رات بھر اللہ کی عبادات میں مشغول رہتے ہیں۔

’’ امور حرمین شریفین‘‘ نے 12 ہزار ملازمین کو متحرک کردیا ہے۔ آپریشنل فیلڈ ٹیموں کے ہزاروں کارکنوں کو صفائی اور ماحول کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے متحرک کردیا گیا ہے۔ دونوں مقدس مساجد میں بہترین اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ حفاظتی نظام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔

دونوں مقدس مساجد کا نظام سنبھالنے والے ادارہ کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے رمضان المبارک کی 27 ویں شب کی تیاریوں کے حوالے سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ہجوم کو منظم کرنے اور مسجد حرام کے اندر زائرین کی تشہیر کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا۔ ہجوم کے بہاؤ اور زائرین کے لیے معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا اور حفاظتی نظام برقرار رکھناتھا۔

شیخ السدیس نے کہا کہ سعودی عرب کی دانش مند قیادت حرمین شریفین کے زائرین کو اعلی ترین خدمات فراہم کرنے کے لیے خواہشمند رہتے ہیں۔ قیادت کی توجہ اور خواہش کی بنا پر ہی رمضان المبارک کے آغاز سے دونوں مقدس مساجد کے زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔

السدیس نے کہا الحمد اللہ حرمین شریفین کے امور کے ادارہ نے ماہ مقدس کی ستائیسویں شب کے لیے اپنی تیاریاں 100 فیصد مکمل کر لی ہیں۔ شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کوششوں سے اور سیکورٹی کے نظام کے ساتھ ہم آہنگی والے منصوبوں کے مطابق مسجد حرام اور مسجد نبوی میں لوگوں کو مکمل خدمات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ آسانی کے ساتھ عبادات ادا کرسکیں اور روح پرور ماحول میں اللہ کے حضور دعائیں کریں اور ذکر و تلاوت میں مشغول رہیں۔

انتظامیہ نے دونوں مقدس مساجد میں ضرورت مندوں، کمزوروں اور بوڑھوں کے لیے مفت گاڑیاں فراہم کیں ۔ ان گاڑیوں کے لیے راہداری مختص کی ہے۔ ان کے راستے کو صحت مند افراد کی نقل و حرکت سے الگ کیا گیا ہے۔ خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لیے خصوصی سیڑھیاں مختص کی گئی ہیں۔ نمازیوں کی آمدورفت کے لیے دوسری منزل اور مسجد حرام کی چھت تک سیڑھیاں چلائی گئی ہیں۔ مسجد حرام کی تمام راہداریوں اور صحنوں میں زم زم کے پانی کے کولر رکھ دیے گئے ہیں۔

27 ویں شب کی مناسبت سے مسجد حرام کی صفائی کرنے والوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ یہ ورکر 24 گھنٹے مختلف شفٹوں میں صفائی کریں گے اور کچرے کو بروقت منتقل کرتےجائیں گے۔ بیوت الخلا کی صفائی کا نظام بہتر طریقے سے محترک کردیا گیا ہے۔ فیلڈ ٹیموں کو 100 فیصد کاموں پر لگا دیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے آنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ 27 شب کو جلد سے جلد مسجد میں پہنجا جائے۔ لوگوں کو راہداریوں میں بیٹھنے سے روکا گیا ہے۔ یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ نماز تراویح کے بعد لوگوں کے نکلنے سے پہلے مسجد حرام میں داخل نہ ہوا جائے تاکہ نمازی آسانی سے باہر نکل سکیں اور اس دوران دروازوں پر ہجوم سے بچا جا سکے۔

27 ویں شب کو مسجد حرام میں آپریشنل منصوبہ معیار، بہتری اور مہارت کے اعلی ترین معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے 12 ہزار افراد متحرک ہوں گے۔ رضا کاروں کی بڑی تعداد بھی خدمات فراہم کرنے میں مشغول رہے گی۔ مسجد حرام کی تیسری توسیع کو بھی نمازیوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تکنیکی اور آپریشنل پلانز کے مطابق کاموں کے نفاذ کے لیے انجینئرز، ٹیکنیشنز، مبصرین اور لیبر کے انسانی کیڈرز مسجد حرام میں 24 گھنٹے کام کرتے رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں