قلوپطرہ کی غلط تصویر کشی پر نیٹ فلکس کے خلاف مقدمہ، 2 بلین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

متنازعہ دستاویزی فلم کے باعث مصری شناخت اور شخصیات اور تاریخی ورثے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے زور دیا گیا، تاریخی حقائق کو مسخ پر یونیسکو کی مداخلت کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ماہرین قانون اور آثار قدیمہ پر مشتمل ایک مصری گروپ نے نیٹ فلکس پلیٹ فارم سے نشر ہونے والی دستاویزی فلم میں شہرہ آفاق ملکہ قلوپطرہ کے تصور اور قدیم مصری تہذیب کو مسخ کرنے پر ویڈیو پلیٹ فارم کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبے کے ساتھ ساتھ 2 بلین ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

متنازعہ دستاویزی فلم کے باعث مصری شناخت اور شخصیات اور تاریخی ورثے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے پر زور دیا گیا۔ تاریخی حقائق کو مسخ پر یونیسکو کی مداخلت کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

"ملکہ قلوپطرہ پر بننے والی دستاویزی فلم، جو نیٹ فلکس کے پلیٹ فارم سے نشر کی گئی ، مصر میں اس کی ریلیز سے قبل ہی ہلچل مچا چکی ہے، فلم میں فرعونی دور کی ملکہ کی سیاہ رنگت دکھانے پر مصری کافی برہم ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نیٹ فلکس پر نشر ہونے والی اس متنازعہ دستاویزی فلم میں مشہور مصری ملکہ قلوپطرہ کو ایک سیاہ فام کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو حقیقت کے برعکس ہے۔ فلم میں مجموعی تاریخی غلطیوں کی وجہ سے اسے جھوٹ پر مبنی اور مصر کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے پر ایک واضح حملہ قرار دیا گیا ہے۔

قلوپطرا کی آثار قدیمہ میں محفوظ تصاویر

مصر کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کی گئی ایک سازش ہے جس کے پیچھے "افریقن سنٹرل موومنٹ" ہے۔

فلم کے خلاف احتجاج کرنے والے گروپ کے ایک وکیل عمرو عبدالسلام نے العربیہ کو بتایا کہ انہوں نے ریاستی کونسل کی انتظامی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے کہ مصری حکومت کو تمام سفارتی اقدامات اٹھانے کا پابند بنایا جائے تاکہ وہ متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بات چیت کریں، اور فلم کی ریلیز روکنے کے لیے امریکی عدالتوں کے سامنے علاقائی اور بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی کے اقدامات کریں۔

نیٹ فلکس پر قلوپطرا کا ایک منظر
نیٹ فلکس پر قلوپطرا کا ایک منظر

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے معروف ماہر مصریات اور نوادرات کے سابق وزیر زاہی حواس نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ قلوپطرہ بطلیموسی خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور وہ صاف گندمی رنگت کی مالک تھی۔

ملکہ قلوپطرہ ہفتم کا تعلق ایک قدیم مقدونیائی یونانی خاندان سے تھا جس نے مصر پر تقریباً 300 سال حکومت کی تھی، اور اس کی بنیاد شاہ بطلیموس اول نے رکھی تھی، جو سکندر اعظم کی فوج میں مقدونیہ کے رہنماؤں میں سے ایک تھا، جسے سکندر کی موت کے بعد مصر کی ریاست منتقل ہوئی تھی۔

معروف ماہر مصریات اور نوادرات کے سابق وزیر زاہی حواس
معروف ماہر مصریات اور نوادرات کے سابق وزیر زاہی حواس

انہوں نے کہا کہ متنازعہ فلم کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ابتدائی مصری تہذیب سیاہ فام ہے۔

تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ دستاویزی فلم کو دنیا بہت کم وقت میں بھول جائے گی، کیونکہ یہ تاریخی غلطیوں اور غلط معلومات پر انحصار کرتی ہے، اور اس میں ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ ملکہ سیاہ فام تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ "سیاہ فاموں کے خلاف نہیں" ہیں، لیکن "مصری تہذیب کو چرانے کی کوشش اور اس کے افریقی ہونے کا دعویٰ کرنے کے خلاف ہیں"۔

سیاہ فام تہذیب کا مصری تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے، جیسا کہ مقابر کی دیواروں پر کندہ تصویریں سے ظاہر ہوتا ہے۔

قدیم مجسموں میں بھی ملکہ قلوپطرہ کو جلد کی ہلکی رنگت، پتلی لمبی ناک اور پتلے ہونٹوں کے ساتھ یونانی خصوصیات کو ظاہر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قلوپطرہ کے دور میں مصر میں رومی تاریخ کے واقعات کو قلمبند کرنے والے مورخین کی تحریروں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ کھلتی ہوئی رنگت والی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قدیم مصری ممیوں اور انسانی ہڈیوں پر کیے گئے بائیولوجیکل اینتھروپولوجی اسٹڈیز اور ڈی این اے اسٹڈیز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مصری سب صحارا افریقیوں کی خصوصیات سے مماثلت نہیں رکھتے تھے، مثال کے طور پر کھوپڑی کی ساخت، گالوں کی چوڑائی، ناک اور اوپری جبڑے کی بناوٹ، بال، قد ، جسم کے بالوں کی تقسیم وغیرہ بہت سے اختلافات ہیں۔

سرکاری سطح پر فلم کو قدیم مصر کی تاریخ کو غلط ثابت کرنے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا، مصری وزارت برائے آثار قدیمہ کا موقف ہے کہ فلم میں قلوپطرہ کی پیش کش سادہ ترین تاریخی حقائق سے متصادم ہے۔ اسی طرح یہ پلوٹارک اور ڈیوکاسیئس جیسے مؤرخین کی تحریروں سے بھی متصادم ہے۔

مصری وزارت سیاحت اور نوادرات نے نوادرات کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ وزیری نے کہا کہ اس قسم کی دستاویزی فلمیں اور تاریخی فلمیں بناتے وقت آثار قدیمہ اور بشریات کے ماہرین سے رجوع کرنا ضروری تھا، جو قوموں کی تہذیبوں اور تاریخ کی گواہ رہیں۔

انہوں نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ ملکہ قلوپطرہ کے مجسموں سمیت بہت سے نوادرات اور سکوں پر موجود تصویریں ملکہ کی شکل اور حقیقی خصوصیات کی تصدیق کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size