کسی بھی ملک کے پرچم میں جامنی رنگ نہ ہونے کی حیران کن وجہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا میں اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کی تعداد 195 ہے۔ زیادہ تر ملکوں کے پرچموں کو دیکھیں تو ان میں جامنی رنگ موجود نہیں ہوتا تو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی منطقی وضاحت ہے کہ زیادہ تر قوموں کے قومی پرچموں میں جامنی رنگ کیوں نہیں ہوتا؟

قومی جھنڈوں کی بات کرنے پر ہمیں مختلف نمونے اور منفرد ڈیزائن نظر آتے ہیں۔ کچھ ملکوں نے نارنجی اور پیلے رنگ جیسے روشن رنگوں کا استعمال کیا ہے ۔ کچھ نے اپنے رنگوں میں ستارے اور ڈریگن ڈالے ہیں۔ لیکن کہیں بھی کسی جھنڈے پر جامنی رنگ نظر نہیں آتا۔

42
42

اس کی وجہ پر غور کریں تو اس حوالے سے کئی موقف سامنے آتے ہیں لیکن آپ کو اس کی اصل وجہ جان کر حیرانی ہوگی۔ اس رنگ کو منتخب نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جس زمانے میں پرچموں کو بنایا جارہا تھا ان دنوں جامنی رنگ کے کپڑے کی زیادہ قیمت ہوتی تھی اور اس زمانے میں ممالک اتنے اسراف کے متحمل نہیں ہوتے تھے۔

یہ رنگ 16ویں اور 17ویں صدی میں اتنا مہنگا تھا کہ اسے صرف امیر ہی استعمال کر سکتے تھے کیونکہ اسے دولت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ "ایڈ ٹائمز" کے ایک مضمون کے مطابق اس رنگ کے اتنے مہنگے ہونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ نایاب تھا اور اسے پیدا کرنے کا واحد طریقہ قدرتی طور پر تھا۔ جامنی رنگ کے رنگ کی ابتدا قدیم لبنان کے شہر ’’صور‘‘ سے ہوئی تھی۔ یہ شہر بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے

۔

43
43

شہر ’’ صور‘‘ کے لوگ سمندری گھونگوں سے جامنی رنگ بناتے تھے جسے "میوریکس" سپائنی ڈائی کہا جاتا تھا۔ رنگ بنانے کے اس عمل میں سمندر کے کنارے پر ہزاروں سمندری گھونگوں کو تلاش کرنا، ان کے خول کھولنا اور ان کے غدود سے چپچپا مواد نکالنا شامل تھا۔ یہ ایک انتہائی محنت طلب کام تھا۔

سورج کی روشنی میں یہ چپچپا مواد سفید، پھر پیلا سبز، پھر سرخ اور آخر میں ایک گہرا متحرک جامنی رنگ کا ہو جاتا تھا۔ ٹائرین پرپل کے نام سے جانا جاتا تھا۔ صرف ایک گرام ڈائی تیار کرنے میں تقریباً ہزاروں گھونگھے لگ جاتے تھے۔ اسی بنا پر یہ رنگ انتہائی مہنگا تھا۔

44
44

تاہم انگریز کیمیا دان ولیم ہنری پرکن کی بدولت آج جامنی رنگ اتنا مہنگا نہیں رہا۔ ولیم ہنری پرکن نے 1856 میں اتفاقی طور پر صرف اٹھارہ برس کی عمر میں جامنی رنگ بنانے کا مصنوعی طریقہ ایجاد کرلیا تھا۔ وہ ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعی کوئینائن بنانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے بجائے اس نے اتفاقا جامنی رنگ بنا لیا۔

اب صرف ایک ملک ڈومینیکا ہے جس کا جدید جھنڈا 1978 میں اپنایا گیا تھا۔ اس میں جامنی رنگ کا ایک چھوٹا سا حصہ موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں