ناقابل یقین! پودے جب خطرے محسوس کرتے ہیں تو کیسے رابطہ کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پودوں کا ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کا ویڈیو کلپ ایک خیالی تصور کی طرح لگتا ہے۔ پودے خطرہ محسوس کرنے کے بعد دوسروں کو ایک انتباہی پیغام بھیجتے ہیں۔ جب دشمن ان پر حملہ کرنا شروع کر دیتا ہے تو وہ اپنے دفاع کو متحرک کرتے ہیں لیکن اس کی وضاحت اب پہلے سے کہیں زیادہ قابل فہم ہے۔

واشنگٹن پوسٹ می شائع ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درخت ایک دوسرے کو خطرے سے آگاہ اور خبردار کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پودے خطرہ محسوس کرنے کے بعد دوسروں سے رابطہ کرتے ہیں۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ متاثرہ پودے کچھ کیمیائی مرکبات خارج کرتے ہیں، جو ایک صحت مند پودے کے اندرونی بافتوں میں گھس سکتے ہیں اور اس کے خلیوں کے اندر سے دفاع کو متحرک کر سکتے ہیں۔

اس طریقہ کار کی بہتر تفہیم سائنسدانوں اور کسانوں کو پودوں کو کیڑوں کے حملوں یا خشک سالی سے بہت پہلے ان کی حفاظت میں مدد دے سکتی ہے۔

تصویر میں اس کی بہتر وضاحت ہو سکتی ہے؟

ماساتسوگو ٹویوٹا مطالعہ کے سرکردہ مصنف جو منگل کو نیچر کمیونیکیشنز کے جریدے میں شائع ہوا نے کہا کہ یہ مطالعہ پہلی بار اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ محققین "پودوں کے درمیان رابطے کا تصور" کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

درختوں کے "آپس میں رابطے" کا خیال 1980ء کی دہائی میں جڑ پکڑنا شروع ہوا، جب دو ماحولیات کے ماہرین نے ولو کے درختوں کی شاخوں پر سینکڑوں کیٹرپلر اور ویب کیڑے رکھ دیے تاکہ یہ مشاہدہ کیا جا سکے کہ ان کا کیا ردعمل ہے۔

انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ حملہ آور درختوں نے کیمیکل پیدا کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان کے پتوں کو بھوک نہیں لگتی اور کیڑوں کو روکنے کے لیے وہ ناقابل ہضم ہو جاتے ہیں۔

لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے 30 یا 40 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک ہی نوع کے صحت مند درخت دریافت کیے ہیں، جن کی جڑیں تباہ شدہ درختوں سے جڑی ہوئی نہیں ہیں، وہ کیڑوں کے حملے کے خلاف تیاری کے لیے وہی کیمیائی دفاع بھی رکھتے ہیں۔

اس وقت کے دیگر سائنسدانوں نے تباہ شدہ میپل اور چنار کے درختوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اسی طرح کے نتائج پائے۔

جب کہ ان ابتدائی تحقیقی ٹیموں کا ابھرتا ہوا خیال تھا کہ درخت ہوا کے ذریعے ایک دوسرے کو کیمیائی سگنل بھیجتے ہیں، جسے آج کل پلانٹ ایو ڈراپنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

چار دہائیوں تک تحقیق

پچھلی چار دہائیوں کے دوران سائنسدانوں نے 30 سے زیادہ پودوں کی انواع میں اس سیل ٹو سیل مواصلات کا مشاہدہ کیا ہے، جن میں لیما بین، تمباکو، ٹماٹر، سیج برش اور سرسوں کے خاندان کے پھول دار پودے شامل ہیں لیکن اب تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ کون سے مرکبات اہم ہیں اور انہیں کیسے محسوس کیا جاتا ہے۔

آندرے کیسلر جو پلانٹ ایکولوجسٹ ہیں وہ تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ "اس میدان میں اس قسم کا تنازع رہا ہے۔سب سے پہلے یہ مرکبات عام طور پر پودے کے ذریعے کیسے جذب ہوتے ہیں، اور پھر وہ اپنے تاثرات کے جواب میں پودے کے میٹابولزم کو کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟"۔

کیسلر نے وضاحت کی کہ اس مطالعے نے ان میں سے کچھ دیرینہ سوالات کے جوابات دینے میں مدد کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں