فلسطینیوں کی حمایت کرنے پر اسرائیل برہم، گوتریس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

گوتریس نے نے کہا حماس نے خلا میں حملہ نہیں کیا، فلسطینی عوام 75 سال سے قبضے کا شکار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا

اردان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر کہا کہ سیکرٹری جنرل جو غزہ میں کارروائی کو بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے بڑے پیمانے پر قتل کی مہم کو سمجھتے ہیں اب اقوام متحدہ کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

گوتریس کے بیانات نے اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کو بھی غصہ میں مبتلا کر دیا جنہوں نے سیکرٹری جنرل کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے اسرائیلی سرزمین پر حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کو یاد کرنے کا کہا اور ان سے اپنی ملاقات بھی منسوخ کر دی۔

ایلی کوہن نے کہا ’’جناب سیکرٹری جنرل آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟" اسرائیل کے 2005 میں غزہ سے دستبرداری کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے فلسطینیوں کو آخری انچ تک غزہ دیا۔ غزہ کی زمینوں کے حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہے۔

یاد رہے اپنی تقریر میں گوتریس نے کا تھا کہ حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی کے آس پاس کی بستیوں اور قصبوں پر 7 اکتوبر کو شروع کیا گیا حملہ خلا میں نہیں ہوا۔ فلسطینی عوام 75 سال سے زائد عرصے سے مسلسل قبضے کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے حماس کے حملے کے بعد سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

گوتریس نے مزید کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو بغیر پابندیوں کے امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں