کراچی جیل میں آرٹ سٹوڈیو خطرناک قیدیوں کی بحالی کا منفرد پرگروام

’جیل میں زندگی کا اصل مطلب سمجھ آیا‘، کراچی کے قیدی آرٹسٹ محمد اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کراچی کی سنٹرل جیل کا دورہ کریں تو وہاں کی دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار نظر آئیں گے جو دراصل سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی فنی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انگریز دور میں قائم کی گئی کراچی کی اس مرکزی جیل میں قتل اور اغوا جیسے جرائم میں ملوث قیدیوں کو کسی نہ کسی قسم کا ہنر سکھایا جاتا ہے تاکہ وہ بعد میں باعزت زندگی گزار سکیں۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ قیدیوں کی رہائی کے بعد انہیں معاشرے میں بہتر مقام دلانے کی غرض سے آرٹ اور موسیقی کا پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت وہ کئی ہزار ڈالر کے فن پارے بیچ چکے ہیں۔

جیل کے آرٹ سٹوڈیو میں موجود محمد اعجاز نامی قیدی کا کہنا ہے کہ ’جیل سے پہلے میری ایک اور ہی زندگی تھی، نہ مجھ میں ذمہ داری تھی اور نہ ہی سمجھ۔‘۔’لیکن جیل میں آنے کے بعد مجھے زندگی کا اصل مطلب سمجھ میں آیا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ زندگی رنگوں سے بھرپور ہے اور یہ رنگ خود بولتے ہیں۔‘

محمد اعجاز نے اپنے جرم کے بارے میں تفصیل بتانے سے گریز کیا تاہم انہیں پینل کوڈ کی اغوا کی دفعات کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 سالہ سزائے قید میں سے وہ تقریباً آدھی سزا کاٹ چکے ہیں۔

جیل میں بند ہونے کے باوجود وہ اپنے آرٹ کے ذریعے بھاری رقم کما رہے ہیں جو وہ اپنی والدہ کے حج اور بہن کی شادی پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

42 سالہ محمد اعجاز نے بتایا کہ ’شروع میں میری فیملی نے مجھ پر یقین نہیں کیا کہ میں آرٹسٹ بن گیا ہوں۔ جب انہوں نے مجھے نمائش میں دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے۔‘ محمد اعجاز جیل میں اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی یہ ہنر سکھاتے ہیں۔

سال 2007 میں کراچی کی سنٹرل جیل میں آرٹ پروگرام شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ان قیدیوں کی اصلاح کرنا ہے جو سزائے موت یا طویل سزا کاٹ رہے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت قیدیوں کو عربی، انگلش یا چینی زبان سیکھنے کی بھی سہولت حاصل ہے جبکہ کڑھائی یا موتیوں کا کام بھی سیکھ سکتے ہیں۔
جیل کے سینیئر عہدیدار عماد چانڈیو کا کہنا ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں سے قیدیوں کو اپنے ماضی پر نظر دوڑانے میں مدد ملتی ہے کہ وہ کن جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

پاکستان بھر کی جیلیں خطرناک حد تک قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں جہاں محدود پانی، صفائی اور خوراک کی سہولت موجود ہے تاہم سینٹرل جیلوں میں بہتر فنڈز کی فراہمی کے باعث بنیادی سہولیات میسر ہیں۔

قتل کے جرم میں سزا کاٹنے والے مہتاب ذاکر پانچ سال سے سینٹرل جیل میں قید ہیں لیکن ان کے اہل خانہ مالی مدد کے لیے انہی پر انحصار کرتے ہیں۔

34 سالہ مہتاب ذاکر کا کہنا ہے ’مجھے پتا ہے کہ میں نے یہاں پر وقت نہیں ضائع کیا، ہم نے کم از کم کچھ سیکھا ہے۔‘ ’مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں پینٹنگ مکمل کرتا ہوں۔ اس سے میرا خود پر اعتماد بحال ہوتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں