مصر میں وزرا کی کونسل کے انفارمیشن سپورٹ سینٹر نے مصر کی آبادی میں اضافے کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 1950 کے مقابلے میں مصر کی آبادی میں پانچ گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مصر کی آبادی 2023 میں 105 ملین افراد تک پہنچ گئی اور 1950 میں یہ تعداد 21 ملین تھی۔ مصر آبادی کے لحاظ سے دنیا میں 14 ویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا مصر میں شرح پیدائش 1950 کی دہائی میں اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی اور 54 بچے فی ہزار افراد تک پہنچ گئی تھی۔ توقع ہے سال 2100 میں کم ہوکر یہ شرح 11 بچے فی ہزار افراد تک پہنچ جائے گی۔
تعلیم اور معاشی ترقی
رپورٹ کے مطابق مصر اور دنیا میں شرح پیدائش میں کمی کی بڑی وجہ تعلیم کی بلند شرح اور معاشی ترقی ہے۔ تعلیم میں اضافے سے خواتین زیادہ خود مختار ہو جاتی ہیں اور کم عمری میں شادی یا بہت سے بچے پیدا کرنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ معاشی ترقی بھی خاندانوں کے لیے بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کو مستقل بنیادوں پر برداشت کرنا ممکن بناتی ہے۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ دنیا اس وقت کثیر جہتی آبادیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہی ہے کیونکہ دنیا کی آبادی بیسویں صدی کے وسط میں ہونے والی آبادی کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ 1950 میں دنیا کی آبادی 2.5 ارب افراد تھی جو 2023 کے وسط میں 8 ارب ہوگئی۔ 2050 میں دنیا کی آبادی بڑھ کر 9.7 ارب افراد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد 2021 میں 761 ملین افراد کے مقابلے میں 2050 میں دوگنا ہو کر 1.6 بلین ہو جائے گی۔