ریاض میں 126 سال قبل عید الفطر کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تقریباً 126 سال قبل عید الفطر کے دن ریاض میں حالات معمول کے مطابق نہیں تھے کیونکہ عبدالعزیز [شاہ عبدالعزیز آل سعود] 63 آدمیوں کے ساتھ ابو جفان واٹر سپلائی کے پاس پہنچے جہاں وہ عید کے پہلے اور دوسرے دن ٹھہرے تھے۔

شوال 1319ھ کے تیسرے دن بہ مطابق 10 جنوری 1902ء کی مناسبت سے عبدالعزیز الشقیب کے علاقے میں اترنے کے لیے ریاض کی طرف روانہ ہوئے جہاں انہوں نے الشقیب میں اپنے ساتھیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے 23 آدمیوں کو اونٹوں اور سامان کے ساتھ چھوڑ دیا اور 40 آدمیوں کو لے کر ریاض کی دیواروں کی طرف روانہ ہوئے۔

شوال کے چوتھے دن انہوں نے اپنے آدمیوں کو دوبارہ دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ الظہیرہ گیٹ کے قریب بستان ابن حوبان اپنے بھائی محمد کی قیادت میں کچھ لوگوں کو تعینات کیا۔ پانچ شوال کی رات سات آدمیوں کے ساتھ ریاض کی تباہ شدہ دیوار سے داخل ہوئے اور ریاض کے گھروں میں داخل ہوگئے۔

سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز
سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز

عظمت رفتہ کی تلاش

عبدالعزیز اپنے آباؤ اجداد کی شان وشوکت اور عظمت رفتہ کی تلاش میں پانچ شوال کی درمیانی شب عجلان کے گھر کے قریب ایک مکان میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد دیوار کے باہر موجود لوگوں کو اندر آنے کو کہا تاکہ وہ اندر کی تعداد پوری کریں۔ مٹی کے گھروں کے درمیان 40 آدمی ایک تیز جنگ میں پانچویں دن کی صبح کے لیے بے چین تھے۔ اس جنگ میں عجلان کو قتل کردیا گیا جب کہ اس کے وفاداروں نے ہتھیار ڈال دیے۔

14 جنوری 1902ء کی مناسبت سے 5 شوال 1319ھ کی صبح کے اوقات میں ریاض میں منادی کی گئی جس میں شاہ عبدالعزیز کو ریاض کا حکمران قرار دینے کا اعلان کیا گیا۔ وہاں سے بانی سعودی عرب نے ایک ہی وقت میں یوم فتح اور عید الفطر منائی۔

وہاں سے ایسے واقعات شروع ہوئے جنہوں نے جدید دور میں جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ ایک پرجوش نوجوان کے ہاتھوں جو ابھی چوبیس سال کی عمر کو بھی نہیں پہنچا تھا ریاض کو عید کے دو جشن دے گیا۔

شوال اہل ریاض کے لیے دہری خوشی کا پیغام ہے۔ یکم شوال کو عیدا الفطر اور پانچ شوال کو ریاض کی فتح کا دن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں