’مصر دنیا کی ماں‘ کی حقیقت کیا ہے اور اس کی نوح علیہ السلام سے کیا نسبت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حال ہی میں "مصر دنیا کی ماں ہے" کی مشہور کہاوت کی حقیقت ایک نئی بحث کے ساتھ سامنے آئی جس پر ملا جلا رد عمل دیکھا گیا۔

کچھ لوگ اس کہاوت کوایک حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ دوسرے اس نام کی اصلیت، وجہ تسمیہ اور اس عرفی نام کی تاریخ کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ شائد یہ کہاوت ویسے ہی مشہور ہو گئی ہے جو سال ہا سال سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی آئی ہے۔

پیغمبرنوح علیہ السلام سے نسبت

مصری دارالافتاء نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر وضاحت کی کہ "مصر دنیا کی ماں " کی اصطلاح کی تاریخ بہت گہری اور پرانی ہے۔ اس کی جڑیں حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے ملتی ہیں۔ تاریخ کی کتابیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مصر کی سرزمین واقعی ہے ایک مبارک سرزمین ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابن عبد الحکم کی کتاب "مصر اور مراکش کی فتوحات" کے مطابق یہ روایت مشہور ہے کہ "حضرت نوح کے بیٹے نے جب ان کی دعوت حق قبول کی تو انہوں نے فرزند کے لیے اللہ سے کچھ یوں دعا کی’’ 'اے ہمارے رب اس نے میری دعوت قبول کرلی ہے تو! اس کو اور اس کی اولاد کو برکت دے اور اس کو اس مبارک سرزمین میں بسا دے جو دنیا کی ماں ہے۔ جس میں لوگوں کےلیے راحت سکون ہے۔جس کی دریا دنیا کی بہترین دریاؤں میں شامل ہیں۔ ان کے لیے اس میں بہترین نعمتیں نازل فرما۔اس کے اور اس کی اولاد کے لیے زمین کو مسخر کر دے،ان کے لیےزمین کو عاجز بنا دے اور اس سرزمین پر ان کو تقویت دے"۔

دنیا کی پہلی تہذیب

مصر کی وزارت سیاحت اور نوادرات کے چیف ماہر آثار قدیمہ مجدی شاکر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے بیان میں وضاحت کی کہ مصر کو ’شاونزم‘ کی وجہ سے "مدر آف دی ورلڈ" نہیں کہا گیا بلکہ اسے یہ لقب اس کے دنیا کی پہلی تہذیب کی بہ دولت ملا۔ مصر نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک بہت زیادہ علوم ، فنون اور دیگر چیزیں فراہم کی ہیں۔

تحریر اور حروف

انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے آسان مثال یہ ہے کہ لاطینی حروف تہجی جو یورپ سے نکلے تھے اصل میں یونانیوں کے فونیشین حروف سے مستعار لیے گئے تھے۔ بنیادی طور پر فونیشین حروف سینیٹیکس کی تحریروں کے حروف قدیم مصر زبان سے لیے گئے تھے۔

طب اور سائنس میں قیادت

مصری دانشورنے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصرنے دُنیا کو بہت سے علوم دیے۔ مصر انجینیرنگ، فن تعمیر، ریاضی، کیمسٹری، طب اور سرجری میں پہلا مقام تھا۔

انہوں نے کہا کہ پیپرس پر لکھے گئے تمام مخطوطات جو چار ہزار سال سے زیادہ پرانے ہیں ان علوم کو اپنی مختلف شاخوں میں دستاویزی شکل دیتے ہیں۔

دنیا کے اناج کی ٹوکری

اس کے علاوہ خیال کیا جاتا ہے کہ آگ کی ایجاد کے بعد بنی نوع انسان کی زندگی میں دوسرا مادی انقلاب زراعت تھا جو مصرمیں آیا، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کی ابتدا وادی نیل کے نچلے حصے میں ہوئی۔

اس نے دنیا کوخوراک فراہم کرنا شروع کی اور سب سے پہلے اناج ارض کنعان کو دیا گیا جہاں سے پغمبر یوسف علیہ السلام اپنے والد اور برادران کے ہمراہ آئے تھے۔ وہ حثیثین ریاست (موجودہ ترکیہ) سے گزرتے ہوئےمصر پہنچے۔ اس دور میں مصری بادشاہ ’مرن بتاح‘ جسے رمسیس دوم کہا جاتا ہے نے خشک سالی اور قحط سےنمٹنے کے لیےکنعان کو غلہ بھیجا تھا۔

مجد شاکرنے مزید کہا کہ مصر یونانیوں اور رومیوں کے لیے بھی اناج کی ٹوکری کا درجہ رکھتا تھا۔ رومی فلاسفر لوکس سینیکا نے یہاں تک کہا کہ "جب لوگ بندرگاہ کی طرف گئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ اناج کے جہاز مصر سے آئے ہیں"۔

خشکی کا سال

جب عمروبن العاص نے مصر فتح کیا تو امیرالمؤمین عمر بن الخطاب نے حضرت عمرو بن العاص سے شکایتاً کہا کہ "میں دیکھ رہا ہوں کہ تم وہاں موٹے ہو رہے ہو، جب کہ ہماری بھوک بھی ختم نہیں ہوتی‘‘۔ جب انہوں نے یہ بات کہی تو یہ خشکی کا سال تھا۔

اس پر ابن العاص نے جواب دیا کہ "میں آپ کے لیے گندم اور سامان کا ایک ایسا قافلہ بھیجوں گا۔جس کا ایک سرا آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس مصرمیں ہوگا"۔

مصری محقق نے بات ختم کرتے ہوئےکہا کہ "مصر نے تہذیب کی مشعل اٹھائی اور دُنیا کو اس سے منور کیا۔ قدیم دنیا کی قومیں اس کے گیہوں اور اناج سے پیٹ بھرتی تھیں۔ مصر زماںوں سے کھلے دل کے ساتھ بھلائیاں بانٹتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے ’دنیا کی ماں‘ کے محبت بھرے نام سے جانتےہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں