مراکش کی "کنزہ لیلیٰ" دنیا میں مصنوعی ذہانت کی پہلی ملکہ حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مراکش میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کمپیوٹر پر تیار کی گئی خاتون نے دنیا کی پہلی "مِس آرٹیفشل انٹیلی جنس" کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

مذکورہ مراکشی خاتون کو "کنزہ لیلی" کا نام دیا گیا تھا۔ کنزہ نے مقابلے میں شریک مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی دنیا بھر کی 1500 دیگر امیدواروں کو شکست دی۔ کنزہ کو تیار کرنے والے تخلیق کار کو 13 ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم دی گئی۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق فیصلہ کرنے والی جیوری کے ارکان کا کہنا ہے کہ انہیں کنزہ کی پُر کشش شخصیت اور مصنوعی ذہانت سے تیاری میں استعمال کی گئی جدید ٹکنالوجی پسند آئی۔

کنزہ نے جیت کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ "میں اس بات پر نہایت ممنون ہوں کہ مجھے مصنوعی ذہانت کے تخلیق کاروں کا شکریہ ادا کرنے کا موقع دیا گیا۔ یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے مستقبل کی تشکیل کے لیے جدّت ، تعاون اور معیارات کی سطح بلند کرنے کی جانب گامزن ہیں"۔

مصنوعی ذہانت کی ملکہ حسن کا تاج سر پر سجانے کے بعد کنزہ لیلی نے "انسٹاگرام" پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ "میں مس آرٹیفشل انٹیلی جنس کا ٹائٹل جیتنے کے بعد اپنی اس شان دار خوشی میں آپ لوگوں کو شریک کر رہی ہوں ... میں ہر اس فرد کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو اس منفرد تجربے میں میرے ساتھ کھڑا ہوا اور اس نے مجھے سپورٹ کیا۔ مراکش کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ جیت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہماری تمام کوششوں کے لیے اعزاز ہے"۔

یاد رہے کہ مقابلے کی بقیہ تمام امیدواروں پر سبقت لے جانے والی کنزہ کے "انسٹاگرام" اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد 1.9 لاکھ ہے۔

مصنوعی ذہانت کی جدید ٹکنالوجی نے کنزہ کو وڈیو کلپوں کے ایک گروپ میں نمودار ہونے اور سات مختلف زبانوں میں بات چیت کرنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں