صحت: کھڑے ہو کر پانی پینے سے کون سے سات مسائل ہو سکتے ہیں ؟
پانی پینا انسانی صحت کی عمومی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ پانی جسم کے مختلف کام انجام دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان میں ہاضمہ، دوران خون، درجہ حرارت کو منتظم رکھنا اور غذائی عناصر کا جذب ہونا شامل ہے۔ علاوہ ازیں یہ جلد کی صحت، گردے کے فعالیت کو سہارا دینے اور جسم سے زہریلے مواد کے اخراج میں بھی مدد گار ہوتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پانی پورے دن پیا جائے اور اسے چھوٹے گھونٹوں میں پینا بہتر ہے۔ جسمانی سرگرمی اور گرم موسم کے دوران میں جسم کو پانی کے ذریعے مرطوب رکھنے کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
انگریزی ویب سائٹ Money Controlپر جاری ایک رپورٹ کے مطابق مندرجہ ذیل سات وجوہات کی بنا پر انسان کو کھڑے ہو کر پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے :
ہاضمے کی کمزوری
کھڑے رہ کر پانی پینے سے جسم میں ہاضمے کا عمل معطل ہو سکتا ہے۔ انسان جب کھڑے ہونے کی حالت میں ہوتا ہے تو جسم میں تناؤ ہوتا ہے۔ اس کے سبب پانی بہت تیزی سے نظام ہاضمہ سے گزر جاتا ہے۔ اس بہاؤ کے نتیجے میں غذا کے غیر مناسب طریقے سے ٹوٹنے اور جذب ہونے کا عمل واقع ہو سکتا ہے۔ اس طرح ہاضمے کے نظام میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور انسان اپھار اور بے چینی محسوس کرتا ہے۔
گردوں پر دباؤ
جب انسان کھڑے ہو کر جلدی میں پانی پیتا ہے تو اس کی وجہ سے گردوں میں فلٹریشن کا ضروری عمل رہ جاتا ہے اور پھر گردوں کے اہم وظائف پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دباؤ کے نتیجے میں گردے کی صلاحیت میں کمی ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ گردے میں پتھری ہونے یا دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جوڑوں میں سیال جمع ہونا
روایتی خیالات کے مطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے جسم میں سیال کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جوڑوں اور ہڈیوں کی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔ کھڑے ہو کر پانی پینے سے جوڑوں میں سیال جمع ہو سکتا ہے۔ اس کے سبب جوڑوں کی سوزش (سوجن) یا عضلاتی نظام کے دیگر مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
دل کی تھکاوٹ
کھڑے ہو کر پانی پینے سے جسم کو معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ سیال کو عمل سے گزارنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں الیکٹرولائٹس کا توازن خراب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تیزی سے پانی پینے سے انسانی دل محفوظ دوران خوان اور سیالوں کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں تھکن کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دل اور شریانوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اعصابی نظام کا منفی طور متحرک ہونا
کھڑے ہو کر پانی پینے سے اعصابی نظام کی خود کار سرگرمی بڑھ سکتی ہے جو جسم کے تناؤ کی صورت میں رد عمل کی ذمے دار ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ عمل عمومی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے لیے آرام کرنا اور نارمل صورت میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
حلق میں کھنچاؤ
کھڑے ہونے کی حالت میں پانی پینے سے یہ غذا کی نالی کے نچلے حصے پر زیادہ قوت سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے چینی یا حلق میں عارضی کھنچاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ بالخصوص بڑے گھونٹ پینے کی صورت میں یہ پریشانی مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔ اس طرح انسان گلے میں خراش محسوس کر سکتا ہے اور نگلنے کے قدرتی عمل میں رکاوٹ ہو سکتی ہے۔
اپھار کا خطرہ بڑھ جانا
کھڑے ہونے کی حالت میں پانی پینے سے پانی تیزی سے پیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پانی کے ساتھ زیادہ ہوا اندر جا سکتی ہے۔ یہ ہوا ہاضمے کے نظام میں جمع ہو کر پیٹ کے اندر اپھار، گیس اور بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ جسم اس اضافی ہوا کو نکالنے میں مشکل کا سامنا کر سکتا ہے۔ اس سے انسان کو پیٹ بھرے ہونے یا معدے کے پھولنے کا احساس ہوتا ہے اور وہ بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔