سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان روئل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعلان کے مطابق مملکت میں 'یوریشین گرفن' نسل کے گِدھ کی افزائش نسل کی تین کالونیاں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ نسل مشرق وسطیٰ میں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ یہ اعلان گِدھوں سے متعلق آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر سامنے آیا ہے۔
اس جارح پرندے کو اپنے جیسے دیگر حیوانات کی طرح بقاء کے بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ واضح رہے کہ گِدھ مردہ جان داروں کو ختم کر کے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روک کر ماحولیاتی نظام کی صحت برقرار رکھنے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔
پرنس محمد بن سلمان روئل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو اینڈرو زیلومس کے مطابق ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے زمینی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب میں یوروشین گرفن نسل کے گِدھوں کے چار فعال گھونسلے موجود ہیں۔ ان چار گھونسلوں کی اس وقت باریک بینی کے ساتھ نگرانی کی جا رہی ہے"۔
انھوں نے مزید کہا کہ "یوروشین گرفن کالونیوں کا وجود روئل ریزرو کے قدرتی ماحول میں قابل ذکر بہتری کا مظاہرہ ہے۔ یہ اس رویزرو میں حیاتیاتی تنوع برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں کامیابی کا عکاس ہے”۔
پرنس محمد بن سلمان روئل ریزرو کا مجموعی رقبہ 24,500 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ ریزرو 15 مختلف ماحولیاتی نظاموں پر مشتمل ہے۔ یہاں سعودی عرب میں پائی جانے والی مجموعی اقسام میں سے نصف سے زیادہ موجود ہیں۔ اس طرح حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے یہ مشرق وسطیٰ کے زرخیز ترین ریزر میں سے ایک ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب مملکت میں یوریشین گرفن نسل کے گِدھوں کی افزائش نسل کی سالم کالونیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ریزرو کے شمال مشرق میں واقع جبل قراقر کے نزدیک تین کالونیوں میں چار فعال گھونسلے موجود ہیں۔
سال 2023 میں سعودی عرب میں 'جنگلی حیات کی ترقی کے قومی مرکز' کے ساتھ ایک مشترکہ اقدام کے تحت پرنس محمد بن سلمان روئل ریزرو میں دو گرفن گِدھوں کو چھوڑا گیا تھا۔ اس کا مقصد حیاتیاتی تنوع میں اضافہ اور اس نسل کے گِدھوں کا تحفظ ہے جو ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ گِدھ اُن جانوروں کی باقیات کو کھا لیتے ہیں جن کو بھیڑیے اور لکڑبھگے چیر پھاڑ دیتے ہیں۔ گِدھ جیسے حیوانات کی تعداد میں کمی ماحولیاتی توازن پر منفی طور اثر انداز ہوتی ہے اور ماحولیاتی نظام کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔