معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے تحت کالج آف ٹورازم اینڈ ہوٹلز کے طالب علم یاسر الخیوانی نے نائب وزیر سیاحت شہزادی ھیفاء بنت محمد بن خالد سے ملاقات کے دوران ایک اہم مسئلہ اٹھایا جو بہت سے لوگوں کے دلوں کو چھوتا ہے۔ اشاروں کی زبان کے ذریعے یاسر الخیوانی نے سیاحت کی رہنمائی کے شعبے میں معذور طلباء کو درپیش درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بہروں کی آواز کا اظہار کیا جو سیاحت کی صنعت میں مؤثر طریقے سے حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہروں کو اس شعبہ میں چیلنجز کا سامنا ہے۔
طالب علم یاسر الخیوانی کنگ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ٹورازم کے طالب علموں کے ساتھ ملاقات کے دوران نائب وزیر سیاحت شہزادی ھیفاء بنت محمد بن خالد کے ساتھ بات چیت کے دوران ان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ شہزادی ھیفاء کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ٹور گائیڈ کے پانچ حواس کی سلامتی کی ضرورت کو منسوخ کرنے کے بارے میں ان کی درخواست کو پر غور کیا جائے گا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ انٹرویو میں طالب علم نے کہا کہ میں سیاحت کے انتظام میں مہارت رکھتا ہوں۔ اس چیز نے مجھے اس شعبے میں داخل ہونے کا حوصلہ دیا۔ سیاحت کی رہنمائی میں میرے دوستوں نے مجھے بتایا ایک مسئلہ یہ ہے کہ معذور طلبہ اس پیشے پر عمل نہیں کر سکتے کیونکہ کچھ حواس کی کمی انہیں اس کام میں شامل ہونے سے روکتی ہے۔ انہوں نے ملاقات کے دوران مجھ سے اس تکلیف کو محترمہ شہزادی تک پہنچانے کو کہا۔
یاسر الخیوانی نے میٹنگ کے دوران شہزادی کو تکلیف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے شہزادی کی طرف سے بہت اچھا جواب ملا جس نے مجھے بہت خوش کیا۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور ناقابل بیان احساس ہے۔ شہزادی نے ہمارے دلوں اور ہمارے خاندانوں کو خوشی دی۔ وہ اپنے فیصلے میں مضبوط تھی ۔ وہ ہمارے اور عام شہریوں میں برابری کرنے کے قابل تھی۔
ترقی کی امنگ
طالب علم یاسر الخیوانی نے مزید کہا کہ یہ یقینی ہے کہ اس شرط کا اثر اس میدان میں میرے سفر کو جاری رکھنے پر پڑا ہوگا۔ یہ حالت خاص ضرورتوں کے حامل میرے ساتھیوں کے لیے مایوس کن تھی لیکن ہماری خواہش ہمیں پانچ حواس کی سلامتی کی شرط کو منسوخ کرنے کے لیے درخواست دینے پر مجبور کر رہی تھی۔
یاسر الخیوانی نے کہا میں اپنے آپ کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں اور اس شعبے کے لیے اہل ہوں۔ میں صرف ویژن 2030 کے لیے ولی عہد کا شکریہ ادا کر سکتا ہوں جس نے ہمیں اور بہرے اور سننے والے افراد کی سیاحت کو آگے بڑھایا ہے۔
شہزادی ھیفاء کا جواب
یاد رہے نائب وزیر سیاحت جو کنگ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ٹورازم کے طلبہ کے ساتھ ملاقات کر رہی تھیں نے فوری طور پر اس درخواست کا جواب دیا۔ انہوں نے اپنے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار سے بات کی اور اسے ہدایت کی کہ سیاحوں کی رہنمائی میں حواس کی سلامتی کی ضرورت کو منسوخ کیا جائے۔ شہزادی ھیفاء بنت محمد کا خیال تھا کہ یہ شرط خصوصی ضروریات کے حامل لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی نمائندگی کررہی ہے۔