امریکی صدارتی انتخابات کے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ڈیموکریٹک حریف کملا ہیرس کے درمیان گزشتہ منگل کی رات ہونے والی مشہور مباحثے کے بعد سے ہیٹی سے آنے والے تارکین وطن اور ان کے بلیوں اور کتوں کے کھانے کی باتوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے یہ الزامات لگانے کے بعد کہ سپرنگ فیلڈ اوہائیو میں متعدد تارکین وطن نے پالتو جانور چرائے اور انہیں کھا لیا۔ اس چھوٹے سے شہر پر سب نے توجہ مرکوز کرلی اور اس علاقے میں لوگوں کے پالتو جانور کھانے کے الزامات سامنے آنے لگے۔ مقامی حکام نے ان الزامات کی درستی سے انکار کردیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی طرف سے ریپبلکنز پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ افواہیں کیسے پھیلی لیکن یہ معاملہ کسی نہ کسی طرح ٹرمپ تک پہنچ گیا تھا۔
بہت بڑا سرپرائز
سپرنگ فیلڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عجیب بیان دیا۔ رہائشی ایریکا لی نے انکشاف کیا کہ اس نے کئی روز قبل اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اپنے پڑوسی کی بلی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں ایک تبصرہ پوسٹ کیا تھا اور بعد میں یہ خدشہ پیش کیا تھا کہ اس کے کسی تارکین وطن پڑوسی نے اس بلی کو مار ڈالا ہے۔ تاہم بعد میں خاتون نے نے وضاحت کی کہ وہ اس پڑوسی کو نہیں جانتی تھی اور جس کی بات کر رہی تھیں وہ تو اس کی دوست تھی۔
خاتون نے چھوٹے شہر میں بے گھر لوگوں کے خلاف دشمنی کی حالیہ لہر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور کہا "یہ قابو سے باہر ہو گیا،" ایریکا لی نے اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں افسوس کا اظہار کیا اور کہا میں کبھی نہیں چاہتی تھی کہ ایسا ہو۔
ایریکا نے مزید کہا کہ اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کی پوسٹ افواہوں کے طوفان کا حصہ بن جائے گی جسے میں نے بعد میں ڈیلیٹ کردیا ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں نسل پرست نہیں ہوں۔ میری بیٹی نصف سیاہ فام ہے اور میں خود مخلوط نسل سے ہوں۔
یاد رہے اس حوالے سے دیگر پوسٹس نے بھی جھوٹے دعووں کے پھیلاؤ میں حصہ ڈالا ہے۔ ایک پوسٹ میں ایک مردہ ہنس پکڑے ہوئے ایک شخص کی تصویر جو کولمبس اوہائیو میں لی گئی تھی اسے سپرنگ فیلڈ سے متعلق دعووں کے ثبوت کے طور پر کچھ آن لائن لوگوں نے شیئر کردیا۔
یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایک خاتون کی ایک حالیہ وائرل ویڈیو جس نے مبینہ طور پر ایک بلی کو مار کر اسے کھانے کی کوشش کی تھی کی ابتدا بھی سپرنگ فیلڈ سے نہیں بلکہ کینٹن اوہائیو میں ہوئی تھی۔ اس کا ہیتی کمیونٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مقامی پولیس اور شہر کے حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ سپرنگ فیلڈ میں ایسے جرائم کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لیکن یہ افواہیں پورے ملک میں پھیل گئیں یہاں تک کہ وہ مشہور صدارتی مباحثے تک پہنچ گئیں۔