فخر:پاکستانی گلوکارہ کی تقریباًسات عشرےقبل قومی ترانہ ریکارڈ کروانےکی خوبصورت یادیں

1954 میں گیارہ گلوکاروں نے قومی ترانہ ریکارڈ کیا، نجم آرا نے بلامعاوضہ اپنی آواز دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جب ونٹیج گراموفون پر پاکستان کے قومی ترانے کے آخری الفاظ بجتے ہیں تو نجم آرا کی آنکھیں فخر سے چمک اٹھتی ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے لیے قومی ترانہ فخر، حب الوطنی اور احترام کے جذبات پیدا کرتا ہے لیکن نجم آرا کے لیے یہ اس سے بہت بڑھ کر ہے: آخرِ کاروان لازوال آوازوں میں سے ایک آواز ان کی ہے جنہوں نے اس ترانے کا اولین ورژن گایا جسے دنیا نے سنا۔

86 سالہ آرا ان گیارہ گلوکاروں میں سے ایک تھیں جنہوں نے سات عشرے قبل پاکستان کا قومی ترانہ ریکارڈ کیا تھا۔ موسیقی کی اصل دھن احمد غلام علی چھاگلہ نے 1949 میں ترتیب دی تھی جبکہ اس کا کلام پاکستان کے نامور شاعر حفیظ جالندھری نے 1952 میں لکھا تھا۔

فارسی زبان میں تحریر کردہ اور اردو میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے متعدد الفاظ پر مشتمل یہ ترانہ پہلی بار پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان پر 13 اگست 1954 کو نشر کیا گیا جسے خود جالندھری نے گایا تھا۔

اسے اسی سال کے آخر میں مجموعی طور پر گیارہ گلوکاروں نے ریکارڈ کیا جس میں لیجنڈ پسِ پردہ گلوکار احمد رشدی اور دیگر شامل تھے۔ اس وقت کی 16 سالہ نجم آرا ان میں سے ایک تھیں۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع اپنے معمولی اپارٹمنٹ سے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے آرا نے کہا، "میں کوئی مشہور فنکارہ نہیں تھی اس لیے قومی ترانے کے گلوکاروں میں سے ایک ہونا میرے لیے بڑے فخر کی بات تھی۔"`

"ہر کوئی کہہ رہا تھا، 'آپ نے قومی ترانہ گایا ہے جو بڑا اعزاز ہے۔'

ریڈیو پاکستان کے اولین ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی بخاری (زیذ اے بخاری) نے گلوکاروں میں سے ایک کے طور پر ان کا نام تجویز کیا تھا جو ایک مشہور ناشر اور شاعر بھی تھے۔ آراء کو کمرے میں موجود وہ جوش و جذبہ واضح طور پر یاد ہے جب تقریباً 70 سال پہلے پرجوش موسیقار قومی ترانہ ریکارڈ کرنے کے لیے جمع تھے۔

آرا نے یاد کیا، "یہ ایک بہت عمدہ ماحول تھا، ہر کوئی خوش تھا کہ ہم ترانے میں حصہ لے رہے تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ریہرسل اکثر کئی دنوں تک جاری رہتی تھیں اور جالندھری خود ریکارڈنگ سیشن کا مشاہدہ کرتے تھے۔

آخرِ کار جب ریکارڈنگ کا وقت آیا تو گلوکاروں کو قومی ترانے کی دھن سے متعارف کرایا گیا۔ پاکستان کے نامور شاعر، موسیقار اور ریڈیو پروڈیوسر مہدی ظہیر ہر ایک کی آواز کے مطابق راگ ایڈجسٹ کرنے کے ذمہ دار تھے۔

آرا نے وضاحت کی، "گیتوں اور دھنوں کا امتزاج مہدی ظہیر کا کمال تھا جنہوں نے یہ تخلیق کیا۔"

آرا نے واضح طور پر یاد کیا کہ کس طرح ظہیر نے انہیں مائیکروفون کے بہت قریب کھڑے ہونے پر ڈانٹا اور بار بار پیچھے ہٹنے کو کہا۔

انہوں نے کہا، "اس کے باوجود سب سے بلند آواز میری تھی۔ انہوں نے میری منت سماجت کی، 'خدا کے لیے، پیچھے ہٹو؛ تمہاری آواز بہت نمایاں ہے۔' آرا نے ہنستے ہوئے کہا، اس وجہ سے انہوں نے یقینی بنایا کہ میں کافی پیچھے بیٹھوں۔"

'ایک عظیم فخر و اعزاز'

لیکن ایک بار جب ترانہ ریڈیو پر جاری ہوا تو آرا راتوں رات سٹار بن گئیں۔

اس نے فخر سے چمکتے چہرے کے ساتھ کہا، "اس کے بعد کافی عرصے تک ہر کوئی اس کے بارے میں بات کرتا رہا اور میرے ساتھ بہت عزت سے پیش آیا۔ مختلف تقریبات میں ہر کوئی مجھے یہ کہتے ہوئے مدعو کرتا، 'وہ آ گئی، اس نے ہمارا قومی ترانہ گایا ہے۔'

قومی ترانہ گانا ان کے لیے اتنا بڑا اعزاز تھا کہ آرا نے اس پر اپنی آواز دینے کا ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔

اسی سال سے زائد عمر کی بزرگ گلوکارہ نے قومی ترانے کو "خزانہ" قرار دیتے ہوئے کہا، "میرے والد نے واضح کر دیا تھا کہ کسی قسم کی ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"

پاکستان کی آزادی کے ایک سال بعد 1948 میں آراء اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر آئیں اور ان کے بھائی کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے لیے گانا جاری رکھا اور ایک مشہور پاکستانی مصنف اور ایڈیٹر شاہد احمد دہلوی کی میزبانی میں گانے کے مقبول پروگرام ’سرگم‘ میں حصہ لیا۔

دہلوی کو موسیقی سکھانے کا سہرا دیتے ہوئے آرا کہتی ہیں کہ انہیں شو میں ان کی پرفارمنس کے لیے ہندوستان اور مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے سینکڑوں لوگوں کے تعریفی خطوط موصول ہوئے۔

آرا نے 1954 کی فلم 'روحی' کے لیے گایا جس میں اداکار محمد افضل، مایا دیوی اور سنتوش کمار تھے۔ انہوں نے بے شمار پنجابی نغمات گائے لیکن ان کے اردو گانے مثلاً 'مدت سے ہے ارمان' اور 'بھیا میرا دلہا بنے گا' پر انہیں تنقیدی پذیرائی حاصل ہوئی۔

البتہ تجربہ کار پاکستانی گلوکارہ کے لیے جب پاکستان کا قومی ترانہ گانے کی بات آتی ہے تو اس کے مقابلے میں ہر کارنامہ چھوٹا لگتا ہے۔

کئی عشروں پرانے گراموفون ریکارڈ کے سرورق کو مشتاق نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آرا نے کہا، "جس قومی ترانے سے ہر تقریب کا آغاز ہوتا ہے، اس کی ریکارڈنگ میں شرکت کرنا میرے لیے عظیم فخر اور اعزاز کا باعث تھا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں