ساٹھ کی دہائی میں صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد جان کینیڈی اپنے ملک کی تاریخ کے سب سے کم عمر صدر اور امریکہ کے پہلے کیتھولک صدر بن گئے۔ 1960 کے انتخابات کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار نے اپنے اس وقت کے ریپبلکن حریف رچرڈ نکسن پر مشکل کامیابی حاصل کی۔ اس طرح وہ امریکہ کے 35 ویں صدر بنے تھے۔ وہ کئی ڈولتی ریاستوں میں حاصل کیے گئے چھوٹے مارجن کی بدولت صدارت جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے سرکاری طور پر 20 جنوری 1961 کو کیپیٹل کی عمارت میں ہونے والی افتتاحی تقریب کے بعد عہدہ سنبھالا تھا۔
کینیڈی کے لیے افتتاحی تقریب سے ایک دن قبل امریکی اداکار اور فنکار فرینک سیناترا نے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے بڑی تعداد میں فلمی اور گلوکاری کے سٹارز کو مدعو کیا۔ اس تقریب کو ان سب سے بڑی پرفارمنسز میں سے ایک سمجھا جاتا تھا جن کا انعقاد واشنگٹن ڈی سی میں کیا گیا ہو۔
اس تقریب یا پارٹی کا ہدف کینیڈی کی انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے اٹھائے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے $1.7 ملین اکٹھا کرنے کی کوشش تھی۔ پارٹی کے ٹکٹوں کی قیمت فی شخص 100 ڈالر اور گروپ کے لیے 10000 ہزار ڈالر تک تھی۔
عجیب حرکت!
تاہم منتخب صدر نے ایک عجیب اور نسل پرستانہ اقدام کرتے ہوئے افریقی نژاد امریکی اداکار اور گلوکار سیمی ڈیوس جونیئر سے کہا کہ وہ پارٹی میں شرکت نہ کریں۔ سیمی ڈیوس جونیئر وہ اداکار تھے جنہوں نے کینیڈی کی انتخابی مہم میں شرکت کی تھی اور ان کی زبردست حمایت کی تھی۔ کینیڈی نے یہ قدم اس وقت افریقی نژاد سیمی ڈیوس جونیئر کی سویڈش اداکارہ مے برٹ سے شادی کے بعد وہاں موجود لوگوں کے ردعمل کے خوف کے باعث اٹھایا تھا۔
تاہم اس قدم نے ڈیوس جونیئر کو ناراض کر دیا۔ پھر ڈیوس نے 1960 کی دہائی کے آخر میں 1968 کے انتخابات میں رچرڈ نکسن کی حمایت کرنے کے لیے ریپبلکنز کے ساتھ اتحاد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی۔
برفانی طوفان
افتتاحی تقریب سے پہلے دن کے دوران واشنگٹن ڈی سی میں شدید برفانی طوفان آیا جس کی وجہ سے درجہ حرارت صفر سے سات ڈگری تک گر گیا۔ سڑکوں پر برف کی بھاری مقدار جمع ہوگئی تھی۔ شام کو طوفان کے اختتام کے ساتھ امریکی فوج کی انجینئر ٹیموں کو طلب کیا گیا اور انہیں 19 اور 20 جنوری 1961 کی درمیانی رات کے دوران برف کی گلیوں کو تیزی سے صاف کرنے کا کام سونپا گیا۔
تقریباً ایک ہزار مقامی ملازمین اور 1,700 بوائے سکاؤٹس کو بھی بلایا گیا تھا جو واشنگٹن کی سڑکوں کو جمع برف سے صاف کرنے کا کام بروقت مکمل کرنے کی امید میں تھے۔ پھر تقریباً بارہ بج کر اکیاون منٹ پر جان کینیڈی نے حلف لیا تھا۔
افتتاحی تقریب اس نوعیت کی پہلی تقریب تھی جسے رنگین ٹیلی ویژن سکرین پر براہ راست نشر کیا گیا تھا۔ اپنی افتتاحی تقریر، جو 1,366 الفاظ پر مشتمل تھی، میں کینیڈی نے امریکہ میں نئی نسل کی تعریف کی اور ان پر جنگوں اور سخت حالات کے اثرات کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے امریکیوں کے اپنی تاریخ اور ورثے پر فخر کا اظہار کیا۔ امریکہ اور بیرون ملک انسانی حقوق میں کمی کو مسترد کیا اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔ اگرچہ سرد جنگ اور سوویت یونین کے ساتھ دشمنی کا مسئلہ ان کی تقریر کے ایک اہم پہلو پر حاوی رہا۔ تاہم انہوں نے جوہری ہتھیاروں، جوہری تجربات اور ہتھیاروں کی دوڑ کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات پر توجہ مرکوز کرنے اور غریبوں کی مدد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔